انوار خلافت — Page 11
کچھ کہہ سکے اور اگر مذقم کہہ کر گالیاں دیتے ہیں تو دیتے جائیں یہ میرا نام ہی نہیں۔کفار عرب اہل زبان تھے اس لئے وہ اتنی سمجھ رکھتے تھے کہ محمد نام لیکر ہم گالی نہیں دے سکتے لیکن یہ چونکہ عربی نہیں جانتے اس لئے یہ گالی دیتے ہیں کہ تم محمودی ہو۔ہم کہتے ہیں خدا تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہے کہ ہم محمودی ہیں کیونکہ یہ تو رسول کریم صلی عالی امن کا وہ مقام ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَاماً مَّحْمُودًا۔( بنی اسرائیل :۸۰) اگر ہمارا رسول کریم سے اس عظیم الشان درجہ کے ذریعہ سے تعلق قائم ہو جسے اللہ تعالیٰ نے انعام عظیم کے طور پر آپ کے لئے وعدہ فرمایا ہے تو ہمارے لئے اس سے زیادہ فخر اور کیا ہو سکتا ہے۔غرض یہ فتنہ بڑھتا ہی گیا اور ابھی تک بڑھ ہی رہا ہے اور عجیب عجیب اعتراض ہمارے خلاف پیدا کئے جاتے ہیں۔مثلاً مولوی محمد علی صاحب میری نسبت کہتے ہیں کہ یہ اپنے آپ کو پاک اور معصوم عن الخطاء کہتا ہے۔میں نے اس کے جواب میں لکھا کہ بالکل غلط ہے میں اپنے آپ کو ایسا نہیں سمجھتا اور نہ ہی کوئی انسان ہو کر ایسا سمجھ سکتا ہے لیکن اس کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ میاں صاحب نے یہ جواب صرف لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے دے دیا ہے ورنہ واقعہ میں وہ اپنے آپ کو ایسا ہی سمجھتے ہیں۔اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے ابھی تک اپنی کوئی غلطی شائع نہیں کی اور نہ ہی کسی غلطی کا اعتراف کیا ہے۔میں کہتا ہوں غلطی کا ہونا اور بات ہے اور غلطی کرنے کا امکان اور بات ہے اور ان دونوں باتوں میں بہت بڑا فرق ہے۔لیکن یہ عجیب بات ہے کہ وہ با وجود ایم اے ہونے کے اور امیر قوم کہلانے کے اتنا نہیں سمجھ سکتے کہ غلطی کرنا اور کر سکنا الگ الگ باتیں ہیں۔میں نے یہ کبھی نہیں کہا اور نہ اب کہتا ہوں کہ میں غلطی نہیں کر سکتا۔لیکن اگر میری طرف سے کسی غلطی کا اعلان نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ میں غلطی نہیں کر سکتا تو کوئی شخص مولوی صاحب سے پوچھے کہ جناب مولوی صاحب ! میاں صاحب تو آپ کی اس دلیل کی رو سے بیشک اپنے آپ کو معصوم عن الخطاء سمجھتے