انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 193

انوار خلافت — Page 117

۱۱۷ ایسی شرارتیں کرتے ہیں کہ ان کے دل بھی انہیں شرمندہ کرتے ہیں۔عالم کہلاتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے۔اس لئے گو انہوں نے علم پڑھا مگر ان کا علم ان کے کسی کام نہ آیا اور وہ گمراہ کے گمراہ ہی رہے۔پس خشیت اللہ کی بہت ضرورت ہے۔اس کے پیدا کرنے کے طریق نبیوں کے زمانہ میں بہت سے ہوتے ہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ انسان کو سانچے میں ڈھال دیتے ہیں اور خود نمونہ بن کر لوگوں کو سکھلاتے ہیں۔یہ ایک ثابت شدہ بات ہے کہ ہر ایک کام جس طرح کسی استاد کے بتانے اور تجربہ کر کے دکھانے سے آتا ہے اس طرح خود بخود کتابوں میں سے پڑھ لینے سے نہیں آیا کرتا مثلاً اگر کوئی شخص ڈاکٹری کی کتابیں پڑھ لے لیکن اسے تجربہ نہ ہو تو وہ لوگوں کا علاج کرنے کی بجائے ان کو مارے گا۔کیونکہ علاج وہی کر سکتا ہے جس کو تجربہ بھی ہو اور جسے اس نے کسی استاد سے سیکھا ہو۔مگر جس نے کسی استاد کو دیکھا ہی نہ ہو اس کے علاج سے بہت مرتے اور کم جیتے ہیں اور جو جیتے ہیں وہ بھی اس لئے نہیں کہ اس کی دوائی اور علاج سے بلکہ اپنی طاقت اور قوت سے۔پس خشیت اللہ نبی کی صحبت سے جس طرح حاصل ہوتی ہے اس طرح کسی اور طریق سے نہیں حاصل ہو سکتی۔پس تم میں سے تو بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود کی صحبت سے اس کو سیکھا ہے۔اس لئے تم اس زمانہ کے لئے ہوشیار ہو جاؤ جبکہ فتوحات پر فتوحات ہوں گی عنقریب ایک زمانہ آتا ہے جبکہ تمہارے نام کے ساتھ لوگ رضی اللہ عنہ لگا ئیں گے۔آج اگر تمہاری قدر نہیں تو نہ سہی لیکن ایک وقت آتا ہے جبکہ اس شخص کی پگڑی ، کرتہ اور جوتی تک کو لوگ متبرک سمجھیں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ رہا ہے۔بیشک حضرت مسیح موعود کو ہی خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے لیکن یا درکھو صادقوں کے ساتھ رہنے والوں کے کپڑوں کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود نے الوصیت میں لکھا ہے