آنحضرت ﷺ کا عدیم المثال فیضان — Page 13
۱۳ امتی کا نبیاء بني اسرائیل کا ظہور ہی نہ ہو سکتا۔اور اس سب کے علاوہ یہ صورت خود اصل موضوع ہی کے خلاف پڑتی۔یعنی دجال کا خروج ہی ناممکن ہو جاتا جس کے لیے مدافعت کی یہ صورتیں درکارتھیں کیونکہ وقال اور ا سکے مفاسد کا زور پکڑنا تو حضور ہی کے زمانہ سے بعد ہو جانے کے سبب سے ہو سکتا تھا۔اور جبکہ آپ خود ہی قیامت تک دنیا میں تشریف رکھتے تو اسکے یہ معنی تھے کہ عالم میں کوئی فتنہ ہی نہ پھیلتا کہ قلوب میں شتر کی استعداد مجھے اور خروج دجال کی نوبت آئے۔پس اس صورت میں خروج دجال ہی ممکن نہیں رہتا چہ جائیکہ اسی مدارت کی کوئی صورت فرض کی جائے بہر حال اس صورت میں نہ امت کے کمالات کھلتے نہ ختم نبوت کی بے پناہ طاقت واضح ہوئی جس میہ واقع ہو سکتا کہ ذات بابرکات خاتم مطلق کی سب سے اکمل روحانیت اور بے انتہاء مکمل انسانیت جسطرح انگوں کو فیض رومانیت پہنچا رہی تھی اسی طرح وہ