آنحضرت ﷺ کا عدیم المثال فیضان

by Other Authors

Page 9 of 17

آنحضرت ﷺ کا عدیم المثال فیضان — Page 9

کے زمانہ خیر میں ظاہر کر کے شکست دلادی جاتی تو ظاہر ہے فتح و شکست کا یہ مظاہرہ ناقص رہ جاتا کیونکہ نہ فسادات دجال ہی سب کے سب بتدریج نمایاں ہو سکتے اور نہ کمالات نبوی ہی سب کے سب کھل کر انہیں شکست دے سکتے۔نتیجہ یہ ہوتا کہ خیر کے ہر پہلو کی طاقت اور شتر کے ہر ہر پہلو کی کمزوری کھلے بغیر ہی مقابلہ ختم ہو جاتا اور دنیا آخرت کے کنارے جا لگتی۔حالانکہ خاتمیت سے مقصود تکمیل ہوتی ہے اور اسی لیے خاتم کو سب سے آخر میں لایا جاتا ہے۔مگر اس صورت میں کسی پہلو کی بھی تکمیل نہ ہوتی اور خاتموں کا آنا عبث ہو جاتا۔ایسے وہاں عظیم کو بھی قیامت تک موقعہ دیا گیا کہ وہ ہر ہر پہلو سے چھپ کر اور کھل کر فساد پھیہ کے بواسطہ اور بلا واسطہ اپنی و بالیت سے دنیا میں تلبیس حق بالباطل کا جال پھیلائے تاکہ ایک دفعہ یہ