اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 497 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 497

497 جمعہ کی نماز بھی ہمیشہ اسی جی او آر کی مسجد میں پڑھتے ہیں جہاں دیگر مسلمان پڑھتے ہیں۔لیکن اگر وہ قادیانی ہوں بھی تو کیا مذہبی عقائد کے سبب ان کی Seniority اور میرٹ کو نظر انداز کر کے ان کا حق مارنا جائز ہے؟ اس سوال کا جواب جو نیجو کے پاس نہ تھا۔میری ریٹائرمنٹ کے روز ہی سے مجھے سپریم کورٹ کا جج مقرر کر دیا گیا۔لاہور ہائی کورٹ میں میرا رخصتی ریفرنس ہوا۔میرے رفقاء نے بڑے تپاک اور محبت سے مجھے الوداع کہا۔جسٹس سعد سعود جان کا تقرر بھی سپریم کورٹ کے جج کے طور پر کر دیا گیا مگر انہیں اپنی لیاقت اور Seniority کے باوجود لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدہ سے اس لئے محروم رکھا گیا کہ وہ قادیانی سمجھے جاتے تھے۔یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ جو ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتا وہ مسلمان نہیں ہے لیکن اگر کسی منصب پر غیر مسلم“ کا استحقاق ہو تو اسے محروم رکھنا کہاں کا اسلام ہے؟۔میں جب کبھی بھی اس بات پر غور کرتا ہوں تو ندامت سے مجھے پسینہ آنے لگتا ہے۔ہمارے یہاں ماضی میں اپنی Seniority کے لحاظ سے غیر مسلم ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔مگر وہ قائد اعظم کی تعلیمات کا اثر تھا۔اب ہم پر ضیاء الحق کے متعصب قسم کے اسلام کا نفاذ تھا جس کے سامنے کوئی بول سکنے کی جرات نہ کر سکتا تھا کیونکہ ہم ضمیر کی آزادی سے محروم تھے۔بلکہ بقول اقبال سلطانی و ملائی و پیری کا کشتہ بن چکے تھے۔“ اپنا گریبان چاک سنگ میل پبلیکیشنز لاہور صفحہ 195) پھر ڈاکٹر صاحب ایک جلسے کی روئیداد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک کانفرنس تھی۔کانفرنس کی صدارت ضیاء الحق کر رہے تھے اور ضیاء الحق صاحب نے یہ اعلان کیا کہ اب ہم جاوید اقبال کے خیالات بھی ضرور سنیں گے۔یہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں شش و پنج میں پڑ گیا۔میرے پہلو میں مجید نظامی بیٹھے تھے۔