اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 496 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 496

496 رو بروا اپیل کی کہ اپنی حکومت کو علامہ اقبال اور قائد اعظم کی مذہبی رواداری سے متعلق اصول اپنانے کی تلقین کروں۔میرا موقف یہی تھا کہ یہ قانون سازی احمدی برادری کے خلاف نہیں بلکہ ان کے تحفظ کی خاطر کی گئی ہے تا کہ وہ مسلم اکثریت کے غیظ و غضب کا نشانہ نہ بنیں۔مگر بین الاقوامی برادری نے میرے دلائل مستر د کر دیئے۔اور اس مسئلہ پر جو بھی قرار دادیں پاس ہوئیں سب کی سب پاکستان کے خلاف تھیں۔افسوس تو یہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے زمانے ہی سے بین الاقوامی برادری میں پاکستان کا امیج مذہبی طور پر ایک تنگ نظر اور متشد دریاست کے ابھرا۔میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا کہ جب بانیان پاکستان کی نگاہ میں پاکستان کو ایک وسیع النظر اور روادار ریاست بنا تھا تو پھر مذہبی طور پر تنگ نظر اور متشد دریاست کیونکر بن گئی۔“ 66 اپنا گریبان چاک ناشر سنگ میل پبلیکیشنز لاہور صفحہ 192-191) اسی سال کہتے ہیں۔پس منظر یہ ہے اس وقت چیف جسٹس کے بننے کا سوال تھا۔اس وقت غالباً یہ سپریم یا ہائی کورٹ میں جسٹس تھے۔تو ضیاء گورنمنٹ نے یہ چاہا کہ کسی طرح وہاں سے منتقل کر کے انہیں پھر دوبارہ لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنایا جائے۔تو لکھا ہے کہ ” میں نے جواب دیا ” میں اس کیفیت میں واپس چیف جسٹس کے طور پر لاہور آنا نہ چاہوں گا۔اگر آپ مجھے اس قابل سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں میرا بطور جج تقرر ہو تو مجھے منظور ہے۔لیکن واپس لوٹ کر اپنے کسی جونیئر رفیق کی چیف جی کا حق مارنا مجھے پسند نہ ہوگا۔“ پھر فرمایا: ” آپ اپنی جگہ چیف جسٹس بننے کی سفارش کس کے لئے کریں گے۔؟ میں نے کہا ”میرے بعد سب سے سینئر جج سعد سعود جان ہیں۔جو لائق بھی ہیں اور قابل ستائش بھی مگر وہ تو قادیانی ہیں۔“ جونیجو نے اعتراض کیا۔”سر اول تو وہ اعلانیہ کہتے ہیں کہ میں قادیانی نہیں ہوں۔دوم وہ