اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 449 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 449

449 رپورٹنگ (Reporting) کی تاریخ میں جعلسازی کے سارے ریکارڈ مات کر دیئے ہیں۔حکومت پاکستان نے ان دنوں خود اسمبلی کی کارروائی سے متعلق بیانات شائع کئے خواہ ان میں غلطیاں بھی ہیں، قرآن اور حدیث کی نقل کرنے میں بہت ہی نالائقی کا ثبوت دیا گیا ہے مگر بہر حال کچھ نہ کچھ بیان تو اس میں موجود ہے مگر حکومت کی چھپی ہوئی رپورٹ کے باوجود کس طرح ظالمانہ طور پر یہ تحریف کی گئی ہے۔اس پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ چہ دلاور است دز دے که به کف چراغ دارد حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔کتاب میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے گویا کہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث کو حوالہ جات کی کوئی فائل حکومت کی طرف سے دی گئی تھی۔مثلاً ایک جگہ پر حضور نے ایک حوالہ ان سے پوچھا کہ اس کو مکمل بتائیں۔اس پر انہوں نے کہا کہ آپ کے پاس فائل موجود ہے اس میں سے دیکھ لیں۔تو کیا کوئی ایسی بات تھی کہ کوئی فائل حضور کو دی گئی تھی۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب : یہ فن تلبیس کا ایک شاہکار ہے۔اس قسم کی کوئی بات نہیں ہوئی۔فائلیں جو ہماری طرف سے دی گئیں ان کا جو حشر ہوا وہ تو میں پہلے بتا چکا ہوں۔اور فائل کا حوالہ تو دے بھی نہیں سکتے تھے۔اگر دینا چاہتے تو پھر پہلے دن ہی دے دیتے کہ فائلیں تو میں آپ کو دے چکا ہوں۔ان سوالوں کی کیا ضرورت ہے؟ تو یہ خالص گپ ہے۔جس میں سچائی کا کروڑواں حصہ بھی نہیں ہے۔اس سلسلہ میں میں ایک دو باتیں عرض کرنا ضروری ہیں۔بات یہ ہے کہ یہ کتاب احمدیت کی صداقت کا ایک کھلا اور چمکتا ہوا نشان ہے۔اس لحاظ سے بھی کہ اس کتاب میں جابجا جھوٹ بول کر عملاً اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ احمدیت مجسم صداقت ہے۔جھوٹ بولنے کی نوبت تو تبھی آتی ہے جب صداقت کا کوئی جواب نہ ہو۔بز در قانون بھی اسی وقت بنائے جاتے ہیں۔مجھے یاد ہے۔یہ 1978ء کی بات ہے یعنی فیصلہ سے چار سال بعد کی۔حرمین شریفین کے ایک عرب تھے ، اب بھی ان کے دوستوں سے میرا رابطہ ہے۔نام بتانے کی ضرورت نہیں۔وہ ربوہ تشریف لائے تو اپنے ایک احمدی دوست کے ساتھ شعبہ تاریخ میں بھی آئے۔آتے ہی کہنے لگے:۔يا شيخ انا رجل معمور الاوقات وقد زرت في هذا الوقت ولكني ليس