اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 431 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 431

431 صاحب گھر میں ہی موجود ہیں۔یہ لطیفہ اس وقت ہوا۔اچھا اس کے بعد پھر لطیفوں کا تبادلہ ہوتا رہا۔تبادلہ خیالات کے بجائے تبادلہ لطائف اور مضحکات۔میرے دل میں خیال آیا کہ ساری رات ابھی پڑی ہوئی ہے تو کوئی لمبا سا ایسا لطیفہ ہو کہ یہ سفر بھی کٹ جائے اور حضرت میاں صاحب بھی لطف اندوز ہوں۔اس سے دلچسپی کی بات یہ ہے کہ چند دن پہلے میں لاہور گیا تھا کشمیری بازار میں۔وہاں سے میں نے حضرت سلطان باہو کی ابیات سے متعلق کچھ کتابیں لیں۔یہ 1974ء کی بات ہے۔32 سال پہلے کا تذکرہ ہے۔اس میں ایک کتاب تھی ”ہزار مسئلہ“۔میں نے کہا میاں صاحب! ایک بڑی دلچسپ کتاب لایا ہوں۔آپ حضرات کو یاد ہوگا خلیفة امسح الثالث نے غالباً 1974 ء کے جلسہ سالانہ پر نو جوانوں سے یہ فر مایا تھا کہ ہر کتاب پڑھنی چاہئے اور میں تو وہ کتاب جو بکواس ہو وہ بھی پڑھتا ہوں۔اور اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ اپنی جو کتابیں آپ پڑھ لیں اور آپ کے کام کی نہ ہوں تو وہ سلسلہ کی مرکزی لائبریری ،خلافت لائبریری میں دیا کریں۔چنانچہ اس وقت سے خدا کے فضل سے جو مخلص احمدی ہیں اس پر عمل کر رہے ہیں۔حتی کہ حضرت ملک عمر علی صاحب جب وفات پاگئے تو میں نے ملک فاروق صاحب سے کہا کہ حضرت ملک صاحب کی کتابیں آپ خلافت لائبریری میں دے آئیں۔اس کے علاوہ یوزیڈ تا شیر صاحب کی وفات کے بعد ان کے اعزاء آئے۔کہنے لگے جی کہ یہ کتا بیں ہم کہاں رکھیں۔میں نے کہا کہ وہ تو خلیفہ اُسیح الثالث" کا پہلے سے ہی ارشاد ہے۔ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ سلسلہ کے مرکزی ادارے کی طرف توجہ رکھے کیونکہ یہ ہمارا واحد مرکزی ادارہ ہے کہ جس سے ساری دنیا کے احمدی استفادہ کر رہے ہیں۔بہر کیف میں نے کہا کہ یہ ”ہزار مسئلہ کتاب بہت ہی دلچسپ ہے۔کہنے لگے کہ اس میں دلچسپی کیا ہے۔میں نے کہا جی اس میں ایک کذاب اور دجال نے چالیس صفحے کی ایک حدیث وضع کی ہے اور جس طرح کہ فسانہ بنایا جاتا ہے اور ناولوں میں ہیرو ہیں اور پھر اس میں کوئی Nucleus ہوتا ہے۔بعض اوقات وہ معاشرے کے حالات کا منظر پیش کرتے ہیں۔بعض اوقات وہ ادبی دنیا کی طرف لے جاتے ہیں۔تو اس میں یہ ہے کہ آنحضور ﷺ کے دعوی کو سن کر مدینہ میں عبداللہ بن سلام تھے اور ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے ، وہ یہودیوں کے بہت بڑے عالم تھے، اپنے زمانے کے ریسرچ