اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 425
425 میں ہر ولی انہی حضرات میں سے کسی ایک کے رنگ پر آیا اور سب گویا صحابہ ہی کی صورتوں کی صورت مثالیہ بنتے رہے۔لہذا صورت محمدیہ کے ظہور کے لئے دنیا میں دو لاکھ اڑتالیس ہزار صورتیں آئیں کہ جس طرح کسی کے پاس دولاکھ اڑتالیس ہزار لباس ہوں کہ جس لباس کو چاہے پہن لے۔سب اسی کے ہیں۔اسی طرح ذات محمدی کو اختیار ہے کہ جس نبی یا جس ولی کی صورت میں چاہے مصور ہو جائے کہ سب آپ ہی کے روحانی بچے ہیں اور سب کی صورتیں آپ ہی کے ثمرات اور فیضان و نتائج جو دو کرم سے ہیں۔چنانچہ جامع کتاب کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ کو اپنے شیخ (عبد العزیز ) کی صورت میں دیکھا اور گود میں لے کر چاہا کہ آپ کو اپنے اندر داخل کرلوں (یعنی دیکھتے ہیں کہ آنحضرت علی شیخ عبدالعزیز کی صورت میں آئے ہیں۔ناقل ) صبح کو حضرت شیخ سے تعبیر پوچھی تو فرمایا کہ ایک دفعہ نہیں صلى الله ہوسکتا۔تھوڑا تھوڑا کر کے بتدریج ہو گا۔مطلب یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کے انوار و تجلیات خاصہ کا اپنے اندر لینا تدریجی طور پر نصیب ہوا کرتا ہے۔“ ابریز ترجمه تبریز۔یہ اس کتاب کا پہلا حصہ ہے۔اس کے ترجمہ کا صفحہ 173-172 ہے۔اس کے مترجم دیو بندی عالم مولوی عاشق الہی صاحب میرٹھی ہیں۔یہ وہی ہیں جنہوں نے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کی سوانح " تذکرۃ الرشید کے نام سے لکھی اور اس کے نشر وطبع کا انتظام کرنے والی مدینہ پبلشنگ کمپنی جناح روڈ کراچی ہے۔" ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب :۔یہ تو مولانا ! آپ نے، مکرم و محترم شیخ محمد احمد صاحب مظہر نے جو ایک شعر حضرت صاحب کی خدمت میں پیش فرمایا تھا اس کے حوالے سے تشریح فرمائی۔باقی بزرگان کے بارے میں جو آپ کی یادیں ہیں اس سے بھی ہمیں مستفید فرمائیں۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔حضرت مولانا ابو العطاء صاحب سے بعض اوقات علاوہ اسمبلی میں جانے آنے کے وقت ملاقات ہوتی تھی۔ایک دفعہ اسمبلی کے اجلاس کے اختتام کے بعد آپ نے فرمایا کہ ہم لوگوں کی ساری عمر مناظرے میں گذری ہے۔