اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 420
420 یعنی ہم ایسا کہ جس سے ایوان پر یہ کھل جائے کہ یہ گستاخ رسول ہیں۔ان کا کوئی تعلق رسول عربی ہے کے ساتھ نہیں ہے اور یہ وجہ جواز بن گیا ہے کہ ہم ان کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیں تو حضرت شیخ محمد احمد صاحب (اللہ تعالیٰ کی کروڑوں رحمتیں اور برکتیں ان پر ہوں ) نے اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر حضور کی خدمت میں عرض کیا: غنی لیک آئینہ ام ز از پئے مدنی صورت حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔دو لیکن میں رب غنی کی طرف سے بطور آئینہ ہوں مدینے کے چاند کی صورت دنیا کو دکھانے کے لئے۔“ ( نزول مسیح ، صفحہ 100 طبع اول ) تو جو کچھ اکمل صاحب نے کہا ہے وہ تو انہی معنوں میں کہا ہے کہ محمد عربی چاند کی شکل میں دنیا میں ظاہر ہوئے۔خدا نے اس چاند کی شکل کو دکھانے کے لئے موجودہ دنیا میں جو اس زمانہ کی دنیا سے بہت بڑی ہے اور اس دنیا میں اب آسٹریلیا بھی اور اس کے علاوہ امریکہ بھی شامل ہے اور ذرائع اور وسائل بھی شامل ہیں۔وہ چاند پہلے سے بڑھ کر دنیا میں دکھانے کے لئے خدا نے مجھے بھجوایا ہے۔اور یہ وَاخَرِينَ مِنْهُمُ کی تشریح ہے۔یہاں مجھے خیال آیا۔یہ حضرت شیخ صاحب نے حضرت مسیح پاک علیہ السلام کا پُر معارف شعر پڑھا لیکن میں عرض کر دوں کہ یہ جو حوالہ ہے اس کو احمدیت کے دشمنوں نے پچھلی صدی سے انتہا درجہ کی اہمیت قرار دے کر ہر جگہ پر اس کی اشاعت کی اور صاف بات ہے کہ اک عاشق رسول کے لئے اتنا ہی بتادینا کہ فلاں گستاخ رسول ہے، کافی ہے۔یہ نماز ہے کہ وہ شخص جو مشتعل ہوتا ہے حقیقتاً اس کے دل میں محمد مصطفی احمد مجتبی ﷺ کی محبت ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ملاں نے ہر ایک کو گستاخ رسول قرار دے دیا ہے۔بریلوی جب بات کریں گے اہلحدیث کے متعلق اور دیو بندیوں کے متعلق ، مودودی کے متعلق تو گستاخ رسول سے کم پر وہ راضی نہیں ہوتے۔احمدیوں کے خلاف مقدمات میں بھی اور جس وقت اپنے ساتھیوں کے ساتھ ، ( مولانا شبیر احمد ثاقب میرے ساتھ تھے ) ایسے احمدی مخلص نوجوانوں کو بھی 298C کے تحت مقدمہ کی اپنی