اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 388 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 388

388 اور میں یہ چونکا دینے والی بات بھی آپ کے سامنے آج کھول کے رکھتا ہوں اور واضح کر کے بتانا چاہتا ہوں کہ ڈاکٹر سر اقبال صاحب جنہوں نے سب سے پہلے کانگریسی حلقوں کے علاوہ مسلمانوں سے 1935ء میں کہا اور وہ رسالہ ان کا چھپا ہوا موجود ہے۔پرویزی خاص طور پر اس کو شائع کرتے ہیں۔اگر چہ سب سے پہلے شیرانوالہ گیٹ سے شائع کیا گیا مگر پرویز صاحب نے اس کو بڑی کثرت سے شائع کیا ہے۔احمدیت اور اسلام اس کا نام ہے۔اس میں یہ بھی اس نے لکھا ہے کہ ابن تیمیہ کی روح اس وقت بہت خوش ہوئی ہو گی جبکہ اتاترک نے ملاؤں کو سیاست سے خارج کر دیا تھا۔مگر اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ قادیانیوں کو تو فوراً خارج کر دینا چاہئے۔اور مثال دی ہے انہوں نے سپینز وسے۔اقبال صاحب نے کہا اور خود ان کی اپنی یاد داشتوں میں چھپا ہوا موجود ہے کہ وہ اپنے زمانے کا ولی تھا۔لیکن چونکہ یہودی اس سے خطرہ محسوس کرتے تھے۔اس لئے انہوں نے اپنی تنظیم سے، اپنے دائرہ سے خارج کر دیا۔اسی طرح ہندوستان کے مسلمان کی وحدت کو خطرہ ’ قادیانیوں سے ہے۔اس لئے ان کو علیحدہ کرنا چاہئے۔یہ انہوں نے بنیادرکھی ہے اور ساتھ لکھا ہے کہ میری نگاہ میں قادیانیوں کے مقابل پر بابی اور بہائی جو ہیں انہوں نے بہت ہی معقول نظریہ اختیار کیا ہے۔اب اس ” شاعر مشرق اور علامہ مشرق کا بابیت اور بہائیت کے ساتھ عشق میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔تا کہ آپ کو پورے بیک گراؤنڈ (Background) کا پتہ چلے۔آپ اگر با بیت کی تاریخ پڑھیں قرۃ العین کا ذکر آپ کو ملے گا۔جس نے سب سے پہلے بابیت کا سفیر ہونے کی حیثیت سے اعلان کیا بدشت کا نفرنس میں، کہ آج سے دور محمد یت ختم ہے اور حضرت باب کا دور شروع ہوتا ہے۔اور ساتھ ہی کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ذاتی جاگیر میں ختم کر دی جائیں اور ساری جاگیروں اور تمام پراپرٹی کے اوپر حکومت کا قبضہ ہو جائے۔بالکل کارل مارکس کی آواز تھی جو با بیت کے پلیٹ فارم سے سنائی دی اور یہی وہ قرۃ العین ہے جس نے اس دور کے ایران کے بادشاہ ناصرالدین قراچار کے سامنے باب کی شان میں قصیدہ پڑھا۔یہ قصیدہ ابوالقاسم رفیق دلاوری نے اپنی کتاب ” آئمہ تلبیس “ حصہ دوم صفحہ 226 تا 228 میں شائع کیا ہے۔اس میں قرۃ العین کا ایک شعروہ ہے جس میں وہ کہتی ہے: