اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 377
377 کیا تبصرے تھے۔عوام الناس کے کوئی کمنٹس اس حوالے سے بیان فرمائیں ؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔عوام الناس کے مینٹس (Comments) میں سے ایک دلچسپ بات تو یہ ہے جو مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب وکیل المال اول نے مجھے بتائی تھی پھر انہوں نے تحریر بھی دی اور وہ تحریر 1974 ء کے مسودے میں شامل ہے۔انہوں نے بتایا تھا۔نالہ ڈیک سیالکوٹ کے قریب ایک مجذوب بیٹھے ہوئے تھے۔فیصلے کے دوسرے دن ایک احمدی وہاں سے گذرا اور ان سے یہ بات کہی کہ تم احمدی ہو۔کہنے لگے جی ہاں۔میرا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے۔کہنے لگے مبارک ہو۔گند سے بچ گئے ہو تم۔ان مولویوں کو میں خود سنبھال لوں گا۔یہ بات اس مجذوب نے کہی۔پھر مکرم چوہدری عبدالحق صاحب ورک جو اسلام آباد کے امیر تھے، انہوں نے مجھے سنایا۔کہنے لگے کہ میرے بھائی ابھی تک غیر احمدی ہیں۔مگر ان کا محبت کا تعلق بہت ہی بے مثال ہے۔واقعہ یہ ہوا کہ جس وقت اناؤنسمنٹ ہوئی تو جماعت اسلامی کے ایک رکن، اور جماعت اسلامی کا جب لفظ آئے تو فوراً آپ کو چاہئے کہ آپ مودودی صاحب کی کتاب ”مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش کا تیسرا حصہ دیکھیں۔اس میں لکھا ہے کہ مسلمان چڑیا گھر کے جانوروں کی طرح ہیں اور یہ لوگ ہر چیز کو جو کافرانہ ہے اسلامی کا لفظ لگا کے پیش کرتے ہیں اپنے کاروبار کو چلانے کے لئے اور کہتے ہیں کہ یہ اسلامی شرابخانہ ہے۔یہ اسلامی شراب ہے۔اسلامی سود ہے۔( مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش“ حصہ سوم صفحه 25 بار سوم ناشر دفتر تر جمان القرآن دار الاسلام جمال پور متصل پٹھانکوٹ ) تو جماعت اسلامی نے اس سے فائدہ اٹھایا۔آخر وہ بھی مسلمان ہیں اس کو بھی تو فائدہ اٹھانا چاہئے۔اسلامی کے لفظ سے۔بہر حال کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے ایک رکن ہمارے بھائیوں کے پاس آئے۔غالباً بہاولنگر کی بات ہے۔یا بہر حال اسی علاقے کی بات انہوں نے بتائی تھی۔کہنے لگے ہمارے گھر جو آئے تو ہمارے بھائیوں سے کہنے لگے جی آج رات انا ونسمنٹ ہوگئی ہے کہ مرزائی دائرہ اسلام سے خارج قرار پائے ہیں۔بھٹو صاحب نے فیصلہ کر دیا ہے۔اجماع امت ہو گئی ہے۔کہنے لگے جی پھر کیا کیا جائے۔کہنے لگے بس۔اب یہ مرزائی کا فر ہو گئے ہیں۔ان کی کوئی چیز مشترک نہیں ہونی چاہئے۔اگر کوئی جائیداد مشترک ہے تو اس سے الگ ہو جاؤ۔کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے۔کھانے پینے میں نہ