اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 364 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 364

364 چٹان۔جناب شورش کا شمیری صاحب اب آگے چلتے ہیں کہ شورش صاحب جو کہ ان کے سب سے بڑے محافظ ختم نبوت تھے۔انہوں نے اس پر جو تبصرہ کیا۔وہ سنانے کے لائق ہے۔شورش کا شمیری صاحب نے اپنے رسالہ چٹان لاہور 10 تا 16 ستمبر 1974ء کے شمارے میں اس پر مستقل ادار یہ لکھا۔اس کے دوسرے صفحہ پر اس ادار یہ میں انہوں نے عنوان یہ دیا تھا۔” جیت گئے اسلام کے غازی یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا“ اس اداریہ کے آخر میں جناب شورش نے یہ تحریر فرمایا کہ آج تک بڑی بڑی حکومتوں نے کوشش کی مگر کوئی بھی کامیاب نہ ہو سکا۔اور یہ سعادت جناب بھٹو کے حصہ میں آئی ہے۔اور آگے انہوں نے لکھا کہ اب بھٹو صاحب کے لئے قیامت کے دن خاتم المرسلین کی شفاعت مقدر ہو چکی ہے اور مسلسل ان کے اقتدار کو بھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔انہوں نے ختم نبوت کی پاسبانی کی ہے۔حالانکہ یہ گستاخانہ لفظ ہیں۔وہ گستاخ رسول ہے ، وہ خدا کا گستاخ ہے جو اپنے تئیں محافظ ختم نبوت کہتا ہے۔یا بھٹو کو کہتا ہے۔اس لئے کہ قرآن کہتا ہے۔اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ( الحجر 10) الذكر سے مراد قرآن بھی اور قرآن مجسم حضرت محمد مصطفی علیہ بھی ہیں۔فرمایا وہ جھوٹے اور کذاب اور دجال ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم محافظ ہیں خدا کے رسول کے۔محمد رسول اللہ اور آپ کی ختم نبوت کا محافظ عرش کا خدا ہے۔لیکن یہ گستاخی چل رہی ہے۔کوئی بھی رجل رشید ہے جو ان گستاخوں کی زبانوں کو لگام دے سکے؟ خدا کہتا ہے کہ دیکھو الذکر یعنی آنحضرت ﷺ اور آپ کی نبوت اور ختم نبوت کا میں محافظ ہوں۔یہ چودہ سو سال بعد میں آنے والے آج محافظ بنے۔غور فرما ئیں کبھی کسی زمانے میں کسی مسلمان عالم نے ، آنحضرت ﷺ کے زمانے میں کسی صحابی نے اپنے تئیں محافظ ختم نبوت کہا ہو۔یہ انتہائی ظالمانہ اور گستاخانہ لفظ ہے۔میں سمجھتا ہوں خدا اور مصطفیٰ اور خاتم الانبیاء کا کوئی عاشق یہ لفظ سننا ہی گوارا نہیں کر سکتا۔میں سمجھتا ہوں کہ ساری