اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 349 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 349

349 مولا نا کا یہ خط پڑھا تو ایک واقعہ یاد آ گیا۔ایک صاحب نے مجھے بتایا کہ پارٹیشن سے پہلے کی بارہ ہے۔گاڑی پر سوار ہوتے ہوئے ایک بوڑھا شخص بیٹھا ہانپ رہا تھا۔گاڑی اس وقت تیز ہو چکی تھی لیکن اس کے باوجود وہ ہینڈل پکڑ کے ڈبے میں چڑھ گیا۔نوجوانوں نے کہا سردار جی کمال کر دیا ہے۔بوڑھا ہونے کے باوجود چلتی گاڑی میں اس طرح آپ اطمینان کے ساتھ بیٹھ گئے ہیں۔لائق تحسین ہیں۔کہنے لگے کہ اصل بات یہ ہے کہ بٹھانا کسی اور کو تھا، چڑھ میں گیا ہوں۔تو علامہ مودودی امیر جماعت اسلامی نے فرمایا کہ یہ قصہ ہوا ہے، بڑی جلدی پاس کر دیا گیا ہے بجائے اس کے کہ احمدیوں کو شکنجے میں ڈالا جاتا، سزا مسلمانوں کے لئے تجویز کی گئی ہے۔تو یہ مودودی صاحب کا تبصرہ تھا۔حفیظ جالندھری صاحب ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب: - ابوالاثر حفیظ جالندھری صاحب کا کیا تبصرہ تھا؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب : حفیظ جالندھری صاحب کا تبصرہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ کوئی قرآنی فیصلہ نہیں ہوا۔عوامی فیصلہ ہوا ہے۔اب فیصلہ کرنے والے جانیں اور اس کو آگے پیش کرنے والے جانیں۔( الحق اکتوبر نومبر 1974، صفحہ 14) شمس الحق افغانی صاحب یہ چیزیں جو تھیں اس پر سمیع الحق صاحب نے الحق‘ کا ایک خاص شمارہ شائع کیا تھا جو ماہ اکتوبر نومبر 1974ء کا تھا۔اس میں یہ سارے ان کے تاثرات موجود تھے۔مثلاً شمس الحق صاحب افغانی شیخ التفسیر نے لکھا کہ یہ بڑا جرأت مندانہ فیصلہ ہے اور اس دور میں اس سے زیادہ ممکن ہی نہیں تھا۔اور لکھا کہ بس یہی اس کا مطلب ہے کہ لا الہ الا الله محمد رسول الله۔ولكن رسول الله وخاتم النبیین۔مقصد یہ تھا کہ بس اب کلمہ محد مکمل ہوا ہے کیونکہ محمد رسول الله یہ سے اب تک تو امت مسلمہ تیرہ سو سال میں اس گمشدہ بات کو پہچان نہیں سکی۔اب بھٹو گورنمنٹ کے طفیل ہی ممکن ہوا کہ مکمل کلمہ پر اجماع امت ہو جائے۔تو اب کلمہ یہ ہے لا اله الا الله محمد رسول اللہ لیکن جب شائع کیا تو الرسول