اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 348 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 348

348 ہوالیکن حق یہ ہے کہ جب وہ رہبر کمیٹی میں شامل ہو گئے تو اس کے بعد تو وہ بات ہی ختم تھی۔یہ تو محض سہرا باندھنے والی بات تھی۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب اب میں عرض کرتا ہوں مولانا مودودی صاحب کا خط’ چٹان میں شائع ہوا اور یہ وہ خط تھا جو انہوں نے سمیع الحق صاحب مدیر الحق اکوڑہ خٹک کے نام لکھا۔میں اس کا خلاصہ ہی بیان کرتا ہوں۔انہوں نے لکھا کہ بڑا شور ہے کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے۔خاک حل ہو گیا۔اتنی جلدی میں یہ فیصلے کئے گئے ہیں کہ بجائے احمدیوں کو سزا دینے کے، اس میں یہ بھی آگیا ہے اور دفعہ الف کے بعد ب شق کا اضافہ کیا گیا ہے جس میں یہ درج ہے کہ ایک مسلمان جو محمد ﷺ کی ختم نبوت کے مفہوم مندرجہ آئین پاکستان دفعہ 260 شق نمبر تین کے خلاف عقیدہ کا اعلان یا اس کے خلاف عمل کی تبلیغ کرے وہ قابل سزا اور تعزیر ہوگا۔اس پر مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی امیر جماعت اسلامی نے جو Comments کئے وہ ان کے الفاظ میں یہ ہیں:۔یہ قرار داد غالباً عجلت میں مرتب اور پاس کر دی گئی ہے۔اور اس کی ابتدا میں مسلمان کا لفظ رکھنے کی وجہ سے اس میں ابہام واشتباہ پیدا ہو گیا ہے۔ظاہر ہے کہ کسی مسلمان کے متعلق یہ تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اس جرم شنیع کا مرتکب ہو گا۔اور مرتکب ہونے کے بعد وہ مسلمان 66 کہلانے کا مستحق رہ سکے گا۔“ تو فرماتے ہیں کہ یہ جلدی میں پاس ہو گئی ہے۔بجائے قادیانیوں کو سزا دینے کے مسلمان کہلانے والوں کو سزا دی گئی ہے۔یہ خط اخبار ” چٹان 3 دسمبر 1974 صفحہ 5 سے لے کر تین صفحات پر مشتمل شائع ہوا ہے۔علاوہ ازیں ”الحق اکوڑہ خٹک ماہ اکتوبر نومبر 1974 ، صفحہ 29 پر بھی شائع ہوا۔جس وقت میں نے