اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 333 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 333

333 اس اشتہار میں وہ لکھتے ہیں کہ ایک سرکاری افسر نے ماہ رمضان میں ملتان کے اندرکشت و خون کرنے اور دہشت گردی کا مظاہرہ کرنے پر سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کو ڈانٹ پلائی۔اس پر انہوں نے جو بیان دیا اس کے وہ الفاظ میں اس وقت رکھنا چاہتا ہوں جس سے ان کے ختم نبوت کے سارے دعوؤں کا علم ہوتا ہے۔لکھتے ہیں کہ :۔وو سید عطاء اللہ صاحب امیر شریعت نے ایک بھرے معزز اجتماع میں ان الفاظ میں اظہار معذرت کیا۔۔۔میں ممتاز صاحب دولتانہ کو اس لئے اپنا لیڈر جانتا ہوں۔(اس وقت پنجاب کے وزیر اعلیٰ دولتانہ صاحب تھے۔ناقل ) کہ ایک تو وہ صوبہ مسلم لیگ کے صدر ہیں اور دوسرے وہ صوبہ پنجاب کی حکومت کے وزیر اعلیٰ ہیں۔“ اب یہ ساری عمر کہا جاتا رہا کہ بانی جماعت احمدیہ کا دعویٰ نبوت کرنا ، دعوی نبوت کے منافی ہی نہیں بلکہ گستاخی بھی ہے۔یہ سرقہ ہے۔شاہ جی نے کہا کہ:۔اگر دولتانہ صاحب کہہ دیں ( خدا کہے تو نہیں مانوں گا۔مصطفیٰ کے جب بھی نہیں مانوں گا۔ناقل ) کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت پر ایمان لے آؤ۔تو میں اس پر ایمان لے آؤں گا اور مرزا بشیر الدین محمود کو خلیفہ اسیح مان لوں گا“۔یہ ہے ختم نبوت کا مظاہرہ جس کا پوسٹمارٹم خود امیر شریعت نے کیا ہے۔اراکین اسمبلی سے حضرت خلیفتہ المسیح الثالث" کا رقت آمیز الوداعی خطاب حافظ محمد نصراللہ صاحب :۔مولانا ! اس تمام کارروائی کے بعد جو تیرہ دن جاری رہی آخری دن 24 اگست 1974ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ نے قومی اسمبلی سے رخصت ہوتے ہوئے ممبران کو کیا پیغام دیا؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔جب کا رروائی ختم ہوئی، یہ رات کا وقت تھا اور حضرت