اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 332
332 مقابلہ میں بادشاہت ہفت اقلیم بیچ ہے۔وہ خدا تعالیٰ کا پیارا ہے ( یعنی مد مصطفیٰ احمد مجتی فدا نفسی و روحی وابی وامی۔ناقل ) پھر فرماتے ہیں:۔وہ خدا تعالیٰ کا پیارا ہے۔پھر میں کیوں اس سے پیار نہ کروں۔وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے پھر میں اس سے کیوں محبت نہ کروں۔وہ خدا تعالیٰ کا مقرب ہے پھر میں کیوں اس کا قرب نہ تلاش کروں۔میرا حال مسیح موعود اس کے شعر کے مطابق ہے۔بعد از خدا بعشق محمد محترم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم (انوار العلوم جلد 2 صفحہ 503 ناشر فضل عمر فاؤنڈیشن۔ربوہ ) خدا کے بعد سب سے بڑھ کر مجھے محمد عربی ﷺ کی مقدس ذات کے ساتھ عشق ہے میں اس میں مخمور ہوں۔میرے رگ وریشہ میں یہ عشق سرایت کئے ہوئے ہے۔اگر یہ کفر ہے تو میں دنیا میں ڈنکے کی چوٹ صدائے ربانی بن کر اعلان کرتا ہوں کہ میں دنیا میں سب سے بڑا کافر ہوں۔تو یہ ختم نبوت اور اس کی شان اور جلالت مرتبت اور مقام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کے سامنے پیش کیا اور جماعت احمدیہ کا ہر فرد آج اس کی چلتی پھرتی تصویر ہے۔مگر آخر میں سوال کا جواب دینے سے پہلے اس کا دوسرا رخ بھی بتانا چاہتا ہوں۔اور وہ صرف واقعات کی حد تک ہے۔تمہیں جولائی 1952ء کو ملتان کی ایک بلند پایہ شخصیت جناب سید زین العابدین گیلانی میونسپل کمشنر نے جو کہ ڈسٹرکٹ مسلم لیگ کے صدر تھے ، ملتان سے ایک اشتہار شائع کیا۔یہ اشتہار پاکستان پبلسٹی پرنٹنگ پریس چوک شہیداں ملتان شہر سے 30 جولائی 1952ء کو شائع ہوا۔محترم سید زین العابدین صاحب گیلانی نے اس اشتہار کا عنوان رکھا:۔سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کی سیاسی قلابازی اور ملتان میں کشت و خون اور حسب معمول احراری لیڈروں کی بے وفائی۔“