اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 17
17 ہمیشہ ہندوستان میں رہی ہے، متحدہ ہندوستان میں۔جو پاکستان میں بھی جاری ہے کہ یہ دماغ ایسا ہے کہ جس کو Exploit کرنے کے لئے مذہبی ایشو کی ضرورت ہوتی ہے۔گاندھی کو ضرورت پڑی مسلمانوں کو ملانے کے لئے تو تحریک خلافت شروع کی۔پھر تحریک ہجرت شروع کی اور یہ ساری مذہب کے نام پر تھیں۔پھر پاکستان کی مخالفت شروع ہوئی تو پاکستان کے وجود کے متعلق اس وقت کے امام الہند صاحب نے یہ بات کہی کہ یہ تو شرعاً ہی جائز نہیں ، اس کا نام رکھنا ہی جائز نہیں ہے۔کجا کہ اس کی کوشش کی جائے اور قائد اعظم کے پرچم کی طرف دیکھا جائے۔مولانا ابوالکلام آزاد صاحب کی کتاب ”انڈیا ونز فریڈم (India Wins Freedom) میں یہ بات کہی گئی ہے۔انگریزی میں چھپ چکی ہے اور آزادی ہند کے نام سے ترجمہ رئیس احمد جعفری کا ہے۔مگر وہ دراصل بعض جگہوں پر خلاصہ بھی ہے۔اصل تو کتاب کے ساتھ انصاف تبھی ہوتا ہے جب ایک تو یہ کہ ترجمہ ایسا ہو کہ وہ اصل معلوم ہو اور دوسرا یہ ہے کہ کوئی پہلو چھوڑا نہ جائے تا کہ مؤلف کی صحیح معنوں میں ترجمانی ہو سکے۔لیکن بہر حال اس میں بھی یہ چیز موجود ہے۔(India Wins Freedom, Page 142-143۔Publisher Orient Longmans Bombay,Calcutta, Madras, New Delhi) تو بنیادی چیز مذہبی طور پر شروع سے ہی ہر تحریک کے پیچھے آپ دیکھیں کہ کوئی تحریک جو چلی ہے آپ پاکستان کو لے لیں۔پہلے ہجرت کا میں نے حوالہ دیا ہے۔یہاں مودودی صاحب نے پہلے اسلامی حکومت کا نعرہ بلند کیا۔اس کے بعد آہستہ آہستہ پھر جو نعرے بلند کئے گئے نظام مصطفیٰ کا ایک نعرہ تھا۔پھر سپاہ صحابہ کے نام سے اور تحفظ ختم نبوت کے نام سے۔پھر ہر چیز ختم نبوت کے نام پر اکسانے کے لئے رکھ دی گئی، اگر مزدوروں کو اکسانا ہو تب بھی کہ تحفظ ختم نبوت کے لئے اکٹھے ہو جاؤ۔یہ ایسا ظالمانہ اور بہیمانہ اور مفتریانہ پراپیگنڈہ تھا کہ 1953ء میں کلائمکس (Climax) تھا۔پنجاب میں جو ابتداء ہوئی ہے وہ بھی بڑی ایجی ٹیشن (Agitation) پھیلا کر تو پاکستان کا تختہ الٹنا مقصود تھا۔کانگریس کے ایجنٹوں کی یہ بات بھی ہمارے علم میں آئی کہ پاکستان میں بعض اسٹیشنوں پر ہندوستان زندہ باد اور پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائے گئے۔