اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 16 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 16

16 معاملہ کو قو می اسمبلی میں پیش کر کے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی۔کیا یہ سب ایک ہی کڑی کا تسلسل ہیں؟ مولا نا دوست محمد صاحب شاہد :۔یہ اتنا ضروری اور اہم سوال آپ نے پیش فرمایا ہے کہ بیچ مانیں آپ بزرگوں کے لئے میرے دل سے دعا نکل رہی ہے۔ع تیرے اس لطف کی اللہ ہی جزا دے ساقی 66 خصوصی کمیٹی کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے مجھے سب سے پہلے یہ بتانا ہے کہ علماء اور اس وقت کی بھٹو حکومت کے گٹھ جوڑ کے ساتھ جو سانحہ ربوہ کا پہلے سے تیار شدہ ڈرامہ رچایا گیا تو اس سے پہلے جماعت احمدیہ کے خلاف اشتعال انگیزی اور منافرت اور افتراء پردازی کی ایک زبر دست مہم چلائی گئی۔تقریر کے ذریعہ سے تحریر کے ذریعہ سے۔کتابیں لکھی گئیں تا کہ جب یہ سانحہ ربوہ“ کا قصہ رکھا جائے تو اس کے ساتھ ہی پس منظر دنیا کو معلوم ہو کہ یہ تو ایسے لوگ ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔پھر یہ حملہ کر کے ہم غریب اور نہتے مسلمان طالب علموں کے اوپر حملہ آور ہو گئے۔اور پانچ ہزار اکٹھے ہو کر تو اس خیال میں آگئے کہ ہم مسلمانوں کو تباہ کر دیں گے اور یہ غرور اور نخوت پیدا ہو گئی کہ اب پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر ہم اپنی حکومت بنائیں گے اور تختہ الٹ دیں گے۔تو اس کے لئے سائیکالوجی کے لحاظ سے بھی ایک ماحول کا بنانا ضروری تھا۔اس ماحول کے بغیر وہ پراپیگنڈہ جو سانحہ ربوہ کے نام سے کیا گیا ، مؤثر نہیں ہوسکتا تھا۔اس پراپیگنڈہ میں بہت ہی زبر دست جو پہلولیا گیا اور جس کے لئے آگے پھر سیاسی اعتراضات اور مفتریات کو بھی ساتھ لگالیا گیا تا کہ مذہبی طبقے ختم نبوت کے نام سے مشتعل ہو جائیں اور سیاسی طبقے اور محب وطن طبقے ان اعتراضوں سے مرعوب ہو جائیں جن سے پاکستان کے وجود کے اوپر سخت حملہ کیا جارہا تھا ، ان کی نگاہ میں جس کی وجہ سے یقینی طور پر پاکستان کا وجود معرض خطر میں پڑنے والا تھا۔سب سے بڑی بنیاد ، چونکہ یہاں جتنی بھی تحریکیں اٹھی ہیں برصغیر میں ، مغربی دنیا میں تو یہ ہے کہ سیاسی ایشو ہے ، معاشی معاملات ہیں، حکومتیں اگر گرتی ہیں، پارٹیاں اگر اپنا ووٹ بنک بناتی ہیں تو وہ ایشو کوئی معاشی ہوتا ہے، کوئی سیاسی ہوتا ہے لیکن مذہبی طور پر یہ کبھی نہیں ہوا۔یہ صورت حال