اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 290 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 290

290 خزانے بانٹے ہیں۔اس حوالے سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ مرزا صاحب نے کون سا خزانہ روحانی خزائن“ کا پیش کیا ہے؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے اس کے جواب میں قرآن مجید کے کتاب عظیم اور کتاب مکنون ہونے کی نہایت لطیف اور وجد آفرین تفسیر فرمائی یعنی قرآن کے دو نام اللہ تعالیٰ نے لکھے ہیں یعنی کتاب مبین بھی ہے۔اس کی بعض صداقتیں سورج کی طرح ہر شخص کو نظر آتی ہیں لیکن اس میں کتاب مکنون بھی ہے۔اس میں بے شمار چھپے ہوئے موتی موجود ہیں۔حضور نے فرمایا کہ خصوصاً حضرت مسیح موعود کی تفسیر سورۃ فاتحہ کے نکات معرفت بے شمار ہیں اور اس سلسلہ میں حضور نے ان کو بہت پُر کیف انداز میں بیان بھی فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سورۃ فاتحہ کے متعلق جو معارف بیان کئے ہیں وہ ’ادارة المصنفین کی طرف سے حضرت خلیفہ امسیح الثالث کے حکم پر تفسیر سورۃ فاتحہ کے نام سے شائع کئے جاچکے ہیں۔میں صرف ایک چھوٹی سی جھلک دکھانا چاہتا ہوں۔اس سورۃ فاتحہ کی تفسیر کو آپ پڑھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رقم فرمائی ہے تو حضور نے اس میں یہ واضح کیا ہے کہ سورۃ فاتحہ ایک حیرت انگیز مجزہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں اوا مر بھی ہیں، نواہی بھی ہیں اور دنیا کے تمام علوم اس میں موجود ہیں۔پھر کمال یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ کے بعد سارے قرآن میں جو مضمون ہیں، اس سارے سمندر کو سورۃ فاتحہ میں جمع کر دیا گیا ہے۔اس واسطے حضور فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص قرآن سمجھنا چاہے تو اس کے لئے کلید سورۃ فاتحہ ہے۔اس پر جتنا غور کرے گا، قرآن مجید اس پر کھلے گا۔اس کے معارف بے نقاب ہو جائیں گے اور اسے پتہ چلے گا کہ تمام مضامین سورۃ فاتحہ میں خلاصہ موجود ہیں۔یہ ایسے ہے کہ جس طرح ایک بہت بڑا شہر ہو۔اگر آپ اس کی تصویر لیں تو ایک مختصر سا خاکہ جو ہے ایک چھوٹی تصویر میں آجاتا ہے۔پھر اس کی انلارجمنٹ (Enlargement) کریں گے تو پھر بڑی تصویر بن جائے گی۔تو سارے قرآن کی اگر روحانی تصویر بنائی جائے تو اس کے خلاصہ کے طور پر سورۃ فاتحہ ہے۔یہ ایک ایسا عرفان کا نکتہ ہے کہ دنیا میں پہلی دفعہ آنحضور ﷺ کے بعد صرف مسیح موعود علیہ السلام نے پیش کیا ہے۔اور فرمایا کہ اس کی سات آیتیں سات ہزار سال کی نمائندگی کرتی ہیں۔