اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 283 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 283

283 کی والہانہ خدمت میں سرگرم عمل ہے اور یہ ایک واضح حقیقت ہے جیسا کہ حضور نے فرمایا کہ کئی لاکھ مسلمان اسرائیل میں موجود ہیں۔میں جب 1985ء میں لنڈن تھا تو بعض حضرات کے ذریعہ سے فلسطین سے اخبار الاخبار الاسلاميه تسترها دائرة الستون الاسلاميه في وزارة الادیان“ منگوایا۔یہ یروشلم سے مسلمانوں کا رسالہ شائع ہوتا ہے۔اس میں مسلمانوں کی تعداد کا تذکرہ کیا گیا ہے۔پھر اس کے علاوہ یہ کوئی قریباً دس یا گیارہ بیانات ہیں تحریری طور پر جو 1986ء میں خدا تعالیٰ کے فضل سے فلسطین کے مسلمانوں کے قلم سے مجھے ملے جبکہ میں لنڈن میں موجود تھا۔ان سب میں بتایا گیا ہے کہ جماعت احمد یہ ایک بہترین اسلامی جماعت ہے اور اسلام کی اشاعت میں سرگرم عمل ہے۔یہ سارے کے سارے میرے پاس ہیں۔ان کا عکس موجود ہے اور اس سلسلے میں میں یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ پہلے تو انچارج تھے حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس، جنہوں نے شام مشن کا آغاز کیا۔شام کے بعد پھر حضور کے ارشاد پر آپ حیفہ میں تشریف لے گئے۔اس کے بعد حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب تشریف لے گئے جنہوں نے رسالہ البشری جاری کیا۔پریس جاری کیا، غالبا مسجدمحمود بھی ان کے زمانے میں بنی اور بہت بڑا لٹریچر اسلام کی تائید میں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کے زمانے میں شائع کیا گیا۔اس کے بعد جب یہود کی تحریک چلی اور دھڑا دھڑ فلسطینی عرب یہودی سرمایہ داروں سے بہت گراں قیمت وصول کر کے اپنی زمینیں دے رہے تھے۔حضرت چوہدری محمد شریف صاحب مجاہد احمدیت ( جو مولانا محمد صدیق صاحب سابق انچارج خلافت لائبریری ربوہ کے بڑے بھائی تھے) نے حضور کی خدمت میں لکھا کہ یہ صورتحال ہو رہی ہے۔یہاں تو تحریر کے بغیر ہی ساری زمینیں یہودیوں کو فروخت کی جارہی ہیں۔حضور نے فرمایا کہ خدا کے لئے فلسطینی مسلمانوں کو کہو کہ خود کشی نہ کریں ورنہ یہ زمینیں سب چلی جائیں گی۔پھر تمہارا ان پر کوئی بھی بس نہیں چلے گا۔اس کے بعد حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے جس شان کے ساتھ فلسطین کا کیس اقوام متحدہ میں پیش کیا ہے۔اس کے بارے ڈاکومنٹس(Documents)موجود ہیں۔شاہ فیصل صاحب نے مبارکباد دی اور دھوم مچ گئی جنرل اسمبلی میں۔یہ رسالہ ”العربی میں نے کو یت سے حاصل کیا۔اس نے حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی تصویر کے ساتھ دس پندرہ صفحے کا مقالہ شائع کیا ہے۔اور عنوان دیا ہے۔