اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 277
277 قائد اعظم کی ہندوستان واپسی حضرت مصلح موعودؓ نے خدا کے تصرف خاص سے حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب در دامام مسجد فضل لندن کو لکھا کہ آج متحدہ ہندوستان کے مسلمان ایک قیامت کے دور سے گذر رہے ہیں اور میرے خیال میں کوئی پولیٹیکل شخصیت مسلمانوں کی قیادت کرنے والی ہندوستان میں ایسی نہیں ہے جو رہنمائی کر سکے۔میری نگاہ میں سوائے قائد اعظم محمد علی جناح کے کوئی بھی اس کشتی کو پار نہیں لگا سکتا۔تو خدا کے لئے ان سے کہیں کہ آپ اپنا ارادہ ترک کریں اور یہاں پہنچیں۔حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب درد کے اپنے لکھے ہوئے نوٹ میں نے پڑھے ہیں۔ایک تقریر بھی چھپی ہوئی موجود ہے۔کہتے ہیں میں قائد اعظم کے پاس گیا۔گھنٹوں میں وہاں پر ٹھہرا۔قائد اعظم کہنے لگے میں فیصلہ کر چکا ہوں اور دوسری بات یہ ہے کہ مجھے تاریکی ہی تاریکی نظر آتی ہے۔میں از خود کیسے جا سکتا ہوں تو حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب درڈ نے کہا کہ اس کا انتظام میں کروں گا۔چنانچہ اس کے بعد پھر حضرت مولانا در دصاحب نے مسجد فضل لندن میں عیدالاضحیہ کے موقع پر اپریل 1933 ء میں ایک پبلک جلسہ کیا اور اس میں ہاؤس آف کامنز ( The House of Commons) اور ہاؤس آف لارڈز (The House of Lords) کے بڑے بڑے ممبر بلائے بلکہ پارلیمنٹ (Parliament) ہی کے ممبر تھے سٹیوارٹ سنڈیمین ایم۔اے ( Sir Stewart Sandaman) جنہوں نے اس کی صدارت کی اور در دصاحب نے قائداعظم سے کہا کہ آپ تقریر فرمائیں۔فیوچر آف انڈیا (Future of India) یہ موضوع ہے۔اس تقریر کے بعد خود ہندوستان کا مسلمان آپ کو آواز دے گا کہ آپ آئیں خدا کے لئے اور اس مصیبت سے بچائیں۔ورنہ انگریز کے جانے کے بعد ہم ہندؤوں کا شکار ہو جائیں گے۔وہ ہندو جو شو در کونہیں چھوڑتا ، ہمیں تو وہ شودر بھی نہیں سمجھتا۔ہمیں تو ملیچھ سے بھی زیادہ خطر ناک سمجھتا ہے۔خدا کے لئے آئیں آپ۔قائد اعظم کے دل میں خدا نے ڈال دیا کہ یہ وقت ایسا ہے کہ مجھے یہاں نہیں ہونا چاہئے۔حضرت مولانا در وصاحب نے یہاں تک الفاظ کہے کہ آپ غدار ہوں گے اگر آپ اس وقت مسلمانوں کو غرق ہونے سے بچانے کی تیاری نہ کریں گے۔حضرت مصلح موعودؓ کی دعا ئیں تھیں۔ضمناً