اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 256
256 ہجری شمسی کیلنڈر کا تعارف حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔اگلا سوال 10 اگست 1974ء کو شام کے اجلاس میں حضور سے کیا گیا اور سوال یہ تھا کہ آپ کا کیلنڈر مسلمانوں سے الگ ہے۔اس کے جواب میں حضور نے کیا فرمایا؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔حضور نے ارشاد فرمایا۔ہمارا اپنا کوئی کیلنڈر نہیں۔جو کیلنڈر آنحضرت ﷺ کے واقعہ ہجرت سے شروع ہوتا ہے اور جس کا ہر مہینہ زمانہ نبوی کے واقعات سے موسوم ہے وہ پوری ملت اسلامیہ کا کیلنڈر ہے۔اس کے بعد حضور نے تشریح فرمائی کہ:۔اس کیلنڈر کے ہر مہینہ کا نام آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک کے کسی واقعہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر ہم ہجری کیلنڈر کو گریگورین کیلنڈر میں Convert کریں تو مسلمانوں کو یہ پتہ لگے کہ اس مہینہ میں آنحضور ﷺ کے عہد مبارک میں کون سا واقعہ ہوا تھا اور وہ واقعات جو تاریخ کے لحاظ سے ہیں اور گریگورین کیلنڈر کے لحاظ سے ثابت ہوئے انہی کے نام پر ان کو موسوم کیا گیا ہے اور یہ دراصل تمام مسلمانوں میں عشق رسول پیدا کرنے اور تاریخ اسلام کے دہرانے کا انتہائی کامیاب ذریعہ ہے۔مثلاً آنحضور عملے پر غارحرا میں سب سے پہلے نومبر میں وحی نازل ہوئی۔تو نومبر کا مہینہ نبوت کا مہینہ کہلاتا ہے۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔باقی کی تفصیل بھی اگر آپ بتادیں۔۔۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔جنوری کا مہینہ یہ صلح حدیبیہ کی طرف منسوب ہے۔اس کا نام صلح رکھا گیا۔فروری میں آنحضور ﷺ نے کھل کے تبلیغ کا آغاز کیا اور بادشاہوں کی طرف تبلیغی خطوط ارسال فرمائے۔تو وہ تبلیغ “ کہلاتا ہے۔مارچ جو ہے وہ ”امان“ کا مہینہ تھا حضور علیہ السلام نے امان دی بعض لوگوں کو بعض قبیلوں کو ، بعض ایسے لوگوں کو جو واجب القتل تھے مگر آپ نے امان دی حجۃ الوداع کے موقعہ پر۔اپریل یعنی ” شہادت میں رسول کریم ﷺ کے صحابہ شہید ہوئے بئر معونہ اور رجیع کے