اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 228
228 الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں ہر گز ملاں کی اذان اور ہے غازی کی اذاں اور قرآن تو وہی ہے، اسلام تو وہی ہے۔لیکن ملا کا اسلام اور ہے ہمارا اسلام یقیناً اور ہے، کیونکہ ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ قال اللہ وقال الرسول کی بنا پر کہتے ہیں۔اب میں آپ کو بتا یہ رہا تھا کہ ایک صاحب نے مجھ پر سوال کیا کہ آپ جنازہ کیوں نہیں پڑھتے۔غالبا ضلع فیصل آباد کی ایک سوال وجواب کی مجلس میں یہ بات ہوئی اور جہاں تک مجھے یاد ہے مکرم مولا نا محمد اعظم اکسیر صاحب اس وقت بطور مربی صدارت فرما رہے تھے۔اس وقت میں نے یہ عرض کیا کہ ہم تو سنت رسول پر عمل کرتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کے متعلق حدیث سے ثابت ہے کہ آنحضور اُس شخص کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے جو قرض دار ہوتا تھا۔ایک بہت بڑا قرض جو امت مسلمہ کے نام یہ ہے کہ آنحضرت علی نے فرمایا کہ جب مہدی کا ظہور ہو تو خواہ تمہیں برف کے تو دوں پر بھی جانا پڑے تو جانا اور اسے میرا سلام کہنا اور اس کی بیعت کرنا۔تو یہ قرض ہے محمد عربی کا ہر مسلمان کے لئے۔تو ہم جنازہ نہیں پڑھیں گے اس شخص کا جو محد عمل اللہ کے قرض کی ادائیگی کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔احمد نگر کی بات ہے جہاں مشہور ذاکر مولوی بشیر ٹیکسلا والے تھے۔شہادت حسین کی شب کو حضرت حسین کے تذکرہ کی بجائے ان کی ساری تقریر ہمارے خلاف تھی۔یہ خلافت ثانیہ کی بات ہے۔حضرت قاضی محمد نذیر صاحب، مکرم گیانی واحد حسین صاحب اور میں۔ہم تینوں اگلے دن اس کے جواب کے لئے بھجوائے گئے۔میرے ذمہ یہ سوال تھا کہ شیعہ ذاکر نے یہ کہا کہ اہل سنت والجماعت جو ہیں وہ بھی قادیانیوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں حالانکہ کبھی بھی کسی قادیانی نے کسی سنی کا جنازہ نہیں پڑھا۔یہ بات بھی انہوں نے اشتعال دلانے کے لئے کہی کہ سنیوں کو غیرت آنی چاہیے، ان کا جنازہ نہیں پڑھا جاتا اور پھر بھی وہ ان کے ساتھ ہماری مخالفت میں محاذ قائم کئے ہوئے ہیں تو میں نے اس کے جواب میں جو بات کہی وہ اس سوال کے جواب کے آخر میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔میں نے تحفتہ العوام پیش کی۔یہ بڑی مستند کتاب ہے غالباً علامہ باقر مجلسی کی ، اس کا ترجمہ لکھنو میں چھپا۔وہ میرے پاس تھی۔اس وقت لائبریری سے لے گیا تھا۔اس میں لکھا تھا کہ اول تو ناصبی کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے۔جس طرح کہ سنی ان کو رافضی کہتے ہیں اور اس لئے کہتے ہیں کہ