رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو

by Other Authors

Page 96 of 150

رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 96

44 ہو گیا تو اس نے کہا کہ اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دیتا تو میں ضرور گھرا ہوں کی جماعت ہیں سے ہوتا۔پھر جب اس نے سورج کو چکھتے ہوئے دیکھا تو اس نے کہا۔کیا یہ میرا رب ہو سکتا ہے۔یہ بے شک سب سے بڑا ہے پھر جب وہ غائب ہو گیا تو اس نے کہا کہ میں اس سے جسے تم خدا کا شریک بناتے ہو بالکل بیزار ہوں !! آپ نے قوم پر یہ بات واضح کر دی کہ ستارے، چاندا در سورج خدا کہلانے کے لاکتی نہیں ہیں۔اور ربوبیت صرف اس عظیم الشان ہستی کو زیبا ہے جو رب العالمین" ہے جو زمین و آسمان اور کائنات کی ہر چیز کی خالق ہے۔آپ نے اپنی قوم کے سامنے علی الاعلان تمام معبودان باطلہ سے پھر بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہا : اتي وَجَهتُ وَجُرمي يتَدِى فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔(سورہ الانعام آیت نمبر ) ترجمہ ہیں نے تمام کچھ راہوں سے بچتے ہوئے اپنی وہ یقیناً اس خدا کی طرف پھیر دی ہے نہیں نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔نوٹ :- (حضرت ابراہیم کی یہ دعا نماز کی نیت کرتے وقت پڑھی جاتی ہے ؟ کواکب پرستی کے خلاف یہ دلائل سن کر قوم کا کیا رد عمل ہوا ؟ ج : قوم کے پاس ان دلائل کا کوئی جواب نہ تھا۔صداقت کو قبول کرنے کی بجائے اس نے آپ سے لڑنا جھگڑنا اور بحث کرنا شروع کر دیا۔جیسا کہ حاجبہ قرمہ کے الفاظ بتاتے ہیں شل : حضرت ابراہیم نے انہیں اس بحث و مباحثہ کا کیا جواب دیا ؟ ج : توحید پرست حضرت ابراہیم نے قوم سے کہا کہ کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں بحث کرتے ہو حالانکہ اس نے خود مجھے ہدایت دی ہے اور جیسے تم اللہ کا شریک بناتے ہو۔میں اس سے نہیں ڈرتا ہاں اگر میرا ری کسی بات کا ارادہ