رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 95
اعمال بجالاؤ۔۹۵۰ یہ امور بناتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو مرت بت پرستی سے ہی نہیں روکا تھا بلکہ اس فلسفہ کا بھی یہ کیا تھا جو اس بت پرستی کے پیچھے اس زمانہ میں کام کر رہا تھا۔سورۃ العنکبوت کی آیت نمبر د ا میں اس کا ذکر آتا ہے۔انهَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَدْنَانَا وَتَخْلُقُونَ إِنكَاء إِنَّ الَّذِينَ تَعبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لا يملكون تكوين تا ما بغدا عِندَ اللهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا له طريه ترجعون شکل: حضرت ابراہیم نے قوم کے سامنے کو اکب پرستی سے رد میں کیا کیا عظیم الشان وائل پیش کیے ؟ سے ج-: حضرت ابراہیم ایک جلیل القدر پیغمبر تھے۔آپ نے اپنی قوم کو اس حقیقت اگاہ کیا کہ ان کے چکتے ہوئے سورج۔چاند اور ستاروں کو ہرگز خدائی طاقت حاصل نہیں ہے۔یہ عقیدہ باطل ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت ابہ ایم کو قوم کے مقابلہ میں ایک عظیم الشان محبت عطا کی۔اور آپ کو غلیہ عطا فرمایا سورۃ الانعام کی آیات اسپر شاہد ناطق ہیں۔جن کا ترجمہ یہ ہے۔ترجمہ : اور ہم ابراہیم کہ اس طرح آسمانوں اور زمینوں پر اپنی بادشاہت دکھاتے تھے تا اس کا علم کامل ہو اور تاکہ وہ یقین کر نے والوں میں سے ہو جائے۔ایک دن ایسا ہوا کہ جب رات نے اس پر پردہ ڈال دیا تو اس نے ایک شارہ دیکھا اسے دیکھ کہ اس نے کہا کہ یہ میرا رب ہو سکتا ہے پھر جب وہ ڈوب گیا تو اس نے کہا کہ میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا اس کے بعد جب اُس نے چاند چمکتا ہوا دیکھا تو اس نے کہا کہ (کیا) یہ میرا رب ہو سکتا ہے پھر جب وہ بھی غائب