رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو

by Other Authors

Page 53 of 150

رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 53

۵۳ س: حضرت صالح کی توم کتنے فریقوں میں بٹ گئی۔؟ ج :- حضرت صالح کی قدیم کے لوگ دو گرد ہوں میں بٹ گئے۔کچھ لوگوں نے تو حضرت صالح کو مان لیا۔اور کچھ لوگوں نے انکار کر دیا۔جیسا کہ سورۃ النمل آیت نمبر ۴۶ میں آتا ہے۔فإذا هُمْ فَرِيْقَانِ يَخْتَصِمُونَ۔ترجمہ :۔پس وہ سنتے ہی دو گروہ ہو گئے جو آپس میں جھگڑنے لگے۔ل : قوم محمود نے حضرت صالح کے دعوی کی صداقت جانچنے کے لیے کیا طلب کیا ؟ ج :- قوم ثمود نے کہا۔نَأْتِ بِايَةٍ إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ - الشعراء) ترجمہ : کہ اسے صالح ! اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو جو نشان تیرے پاس ہے وہ لے آ۔ی :۔حضرت صالح نے قوم نمود کے نشان طلب کرنے پر کیا نشان پیش کیا ؟۔ج :- حضرت صالح نے خدائی حکم کے مطابق اپنی اونٹنی کی آزادی کو ایک نشان قرار دیا۔اور کہا کہ اس اونٹنی کو نقصان پہنچانے پر تمہیں عذاب اپنی گھیرے گا۔ایک دن اس اونٹنی کے لیے گھاٹ سے پانی پینا مقرر ہے اور ایک دن تمہارے لیے گھاٹ سے پانی لینا مقر ر ہے۔سورۃ الشعراء میں اس کا ذکر یوں آیا ہے۔قَالَ هَذِهِ نَاقَةُ لها سوب وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ وَلَا تَمَسُّوهَا سُوء نَيَا حُدَ كُو هَذَابُ يَوْمٍ عَظِيره