رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو

by Other Authors

Page 52 of 150

رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 52

۵۲ ج :- قوم ثمود نے حضرت صالحہ پر لوگوں سے رشوت سے کر ان کی ایجنٹی کرنے کا الزام لگایا۔اور کہا۔قَالُوا إِنَّمَا أَنتَ مِنَ الْمُحْرِينَ ترجمہ: کہ نہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تجھے کھانا دیا جا رہا ہے۔:- حضرت صالح نے تو م کے سوالوں کا کیا جواب دیا ؟ ج :- آپ نے اپنی قوم سے کہا کہ تم کہتے ہو کہ اس تعلیم کی وجہ سے نہیں مشکوک شبہات پیدا ہو رہے ہیں اور اگر تو انہیں پیش نہ کرتا تو ہم سمجھے اپنا لیڈر بنانے کے لیے تیار تھے۔سوچو تو سہی کہ اگر میں فی الواقع خدائی طرف سے ہوں تو اس کو چھوڑ کر تمہاری لیڈری مجھے کیا نفع پہنچا سکتی ہے اس صورت میں تمہاری امداد تو میرے لیے نقصان ہی نقصان کے سامان پیدا کرے گی۔جیسا کہ سورۃ مصور آیت ۶۴ میں آیا ہے۔قال يقوم ال يتو إن كُنتُ عَلَى بَيْنَةٍ مِنْ رَبِّي وَالَّتِي مِنْهُ رَحْمَةٌ نَمَنْ يَنْصُدُ فِي مِنَ اللهِ إِن عَصَيْتُهُ فَمَا تَزيدُ وَنَنِي غَير تغيره ترجمہ :۔اس نے کہا اے میری قوم ! مجھے بتاؤ تو سہی۔اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھے اپنی جناب سے رحمت بھی عطا کی ہے۔اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو اللہ کے مقابل پر کون میری مدد کرے گا۔پس تم تو مجھے صرف گھاٹے میں ہی بڑھاؤ گے۔ن:۔حضرت صالح پر کون لوگ ایمان لائے ؟ ج - حضرت صالح پر غریب اور کمزور لوگ ایمان لائے۔قوم کے بڑے لوگوں نے آپ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ سچ سچے خدا کا رسول ہے۔