رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو

by Other Authors

Page 26 of 150

رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 26

سورۃ قمر میں آتا ہے۔تفتَحْنَا ابْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ منهير - ترجمہ : اس پر ہم نے آسمان کے دروازے ایک شدیت سے برسنے والے پانی کے ذریعہ سے کھول دیئے۔اور سورۃ تمر میں فرمایا۔وَنَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا - ترجمہ :۔کہ ہم نے زمین میں پیشے پھوڑ دیئے۔قومات میں لکھا ہے کہ دجلہ فرات میں بے پناہ سیلاب آگیا۔ہر شے اس کی پیٹ میں آگئی اور ساتھ ہی طوفانی ہواؤں سے اونچی اونچی موجیں اٹھنے لگیں۔سر زمین کے دھانے کیسے کھل گئے کہ قوم نوح فرق ہو گئی ہے ج :- اس کے لیے ایک اشارہ قرآن مجید میں پایا جاتا ہے۔بائیل میں نہیں اور وہ ہے التنور کا اہلنا۔جودی کے اوپر نظر دوڑائیں جھیل در ان نظر آئے گی اس کے شمال مغرب میں دنیا کا سب سے بڑا دھانہ CAATER منہ پھاڑے کھڑا ہے اس کا نام جیل نمرود ہے۔اس میں آج بھی گرم اور ٹھنڈے پانی کی جھیلیں ہیں اور یہ بھی آثار سے پتہ مل گیا ہے کہ زمانہ قبل از تاریخ میں یہ دھانہ اہل پڑا تھا اور اس کے باعث جھیل وان میں پھیلے ہوئے دوسرے دھانے یعنی CRATER پھوٹ پڑے۔نمرود اور جھیل دان کا پانی نشیبوں میں بھر گیا حضرت نوح کی قوم جھیل دان کے قرب و جوار میں پیالہ نما نشیبی وادیوں میں بسی ہوئی تھی۔آسمان کے پانی اور زینی چشموں نے سارے نشیبی علاقوں کو پانی سے لبریز کر دیا۔اس طرح قوم نوح فرق ہو گئی۔