رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 23
۲۳ 10 ود، سواع۔یغوث ، یعوق اور نسر ل : حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو کس بات کی تلقین کی ؟ ان لا تَعْبُدُوا إِلَّا اللهُ (سورة هود) ترجمہ ہے کہ تم اللہ تعالے کے سوا کسی ہستی کی پرستش نہ کرو۔ان الحيد و اللهَ وَاتَّفُوهُ وَأَطِيعُونِه (سورة نوح) ترجمہ : اللہ کی عبادت کرو اس کا تقوئے اختیار کر و۔اور میری اطاعت کرو۔اور یہ تینوں عذاب سے بچنے کے گر ہیں۔:- حضرت نوح کے دعوی رسالت کے بعد آپ کی قوم نے آپ سے کیا کہا ؟ ج : کافر سر داروں نے کہا کہ ہم سمجھے اپنے جیسے آدمی کے سوا کچھ نہیں سمجھتے اور نہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ سوائے ان لوگوں کے جو سرسری نظر میں ہم میں سے حقیر ترین نظر آتے ہیں۔کسی نے تیری پیروی کی اور ہم اپنے پر تمہاری کسی قسم کی فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ ہم یقینی رکھتے ہیں کہ تم بھوٹے ہو۔(سورة هود) شکل :۔حضرت نوح نے مخالفین کو کیا جواب دیا ؟ ج : آپ نے اپنے مخالفین سے فرمایا۔خداتعالی کا پیغام پہنچانے میں میری کوئی غرض نہیں ہے۔میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا اور میرے پیرو کار اگر ظاہر میں ایمان لاچکے ہیں تو میرا حق نہیں کہ میں شک وشبہ کی بناء پر ان کو دھتکار دوں۔یہ لوگ تو خدا کے فضل کے طلب گار ہیں۔ل: کیا حضرت نوح نے اپنی قوم کی ہلاکت کے لیے بددعا کی تھی۔؟ ج :- جی نہیں۔