رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 146
۱۴۹ س 10 سورۃ ابراہیم میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو کس طرف توجہ دلائی ہے ؟ ج: سورۃ ابراہیم میں اللہ تعالٰی نے مومنوں کو تو جہ دلائی ہے کہ ابراہیم کی زبان سے ہم تمہارے فرائض بیان کر چکے ہیں تمہیں وہ ذمہ داریاں کبھی نہیں بھلانی چاہئیں 134 سورۃ ابراہیم میں کفار کو کس بات سے ڈرایا گیا ہے ؟ ج :- سورۃ ابراہیم میں کفار کو اس بات سے ڈرایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم نے مکہ کی بنیاد اس نیت کے ساتھ رکھی تھی کہ یہ توحید کا مرکز ہو۔اور اگر تم شرک کہ وگے تو تم کو یہاں سے دور کر دیا جائے گا اور تمہاری ہلاکت اور تمہاری دوری توحید کی تصدیق کے لیے دلیل بن جائے گی۔( تفسیر سورۃ ابراہیم ص ۲۳) س اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ مکہ والوں کو دین ابراہیم پر چلنے کی نصیحت کیوں کی تھی ؟ ج: حضرت ابراہیم مکہ والوں کے جد امجد تھے، مکہ والے اپنے آپ کو حضرت ابراہیم کی ذریت میں سے سمجھتے تھے اور حضرت ابراہیم کو اپنا باپ کہتے تھے اس لیے باپ کی مثال دے کر ان کو غیرت دلائی کہ دیکھو وہ خدا کا فرمانبردار تھا تم بھی اس کے نقش قدم پر چلوا در اپنے اندر شکر گزاری کے جذبات پیدا کردہ اور اس کی طرح دین کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کر دو۔باپ کی مثال دے کر غیرت دلانا اصلاح کا بہترین طریقہ ہے۔اس لیے مکہ والوں کو نصیحت کی۔۔حضرت ابراہیم نے ترقی کی کلیم کیا بتائی ہے ؟ ج:۔حضرت ابراہیم نے ترقی اور کامیابی کی کلید اس بات کو قرار دے دیا ہے کہ ہر نیک بات خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کی جائے اور ہر بڑی بات پر نا کامی کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا جائے۔و تغيير كبير سورة الفرقان مت )