رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو

by Other Authors

Page 140 of 150

رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 140

۱۴۰ ایک نمونہ کے طور پر پیش کئے جانے کے متعلق بتایا تو حضرت ابرا ہیم نے اپنی ذریت کے لیے بھی خدا کے حضور یوں دعا کی کہ اپنی ! میری اولاد پر بھی تیری رحمت کا ہاتھ رہے۔اس پر اللہ تبارک و تعالٰی نے فرمایا۔لايناك عهدي الظالمين (سورة البقره) ٹھیک ہے مگر میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا یا اللہ تعالیٰ نے یہ مشروطہ وعدہ فرمایا کہ تمہاری اولاد میں سے بعض اس عہد سے حصہ پائیں گے ان پر خدائی انعامات نازل ہوں گے مگر حصہ پانے والے وہی ہوں گے جو قومی ظلم کے ذریعہ سے اپنے آپ کو انعام سے محروم نہ کر چکے ہوں۔و تفسير سورة البقره مت) اور تمہاری اولاد میں سے جو ابراہیمی سنت کو قائم رکھیں گے ہم ان میں امام بناتے جائیں گے اور وہ خدا تعالیٰ کے تازہ تازہ انعامات سے حصہ لیتے رہینگے۔اس مشروط عہد کی ظاہری علامت کیا بیان کی گئی ہے ؟ ج:۔اس مشروط عہد کی ظاہری علامت فتنہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر بتا دیا تھا کہ تیری اولاد میں سے جو اس عہد کی پابندی نہیں کریں گے۔خدا تعالی کا عہد بھی ان سے ختم ہو جائے گا اور ان کو دہ انعامات نہیں دیئے جائیں گے جن کا حضرت ابراہیمؑ کے ذریعہ وعدہ کیا گیا ہے۔رسم ختنہ آج بھی ملت ابراہیمٹی کا شعار ہے۔یہ ظاہری نشان بنی اسرائیل کے کسی نبی تک جاری رہا؟ ج :- اس عہد کا ظاہری نشان جو ختنہ کی صورت میں قائم کیا گیا تھا۔بنی اسرائیل میں حضرت علی تک جاری رہا اور یہ قوم خدا تعالیٰ کے انعامات کی وارث رہی بگر بنواسرائیل کا وہ حصہ جوان پر ایمان نہ لایا تھا۔اس گروہ سے کٹ گیا جس کو انعامات کا وعدہ دیا گیا تھا اور صرف وہی لوگ انعامات کے مستحق رہ گئے جو حضرت عیسی پر ایمان لائے تھے۔لیکن آگے چل کر انہوں نے بھی اس عہد کو