رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو

by Other Authors

Page 138 of 150

رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 138

۱۳۸ ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَا بَيْنَكَ سَعْيَاءَ وَأَعْلَوَانَ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيوه س۔حضرت ابراہیم کے اس سوال اور اللہ تعالے کے اس کلام سے کیا مراد بھی ؟ ج: - حقیقت یہ ہے کہ یہ ظاہری کلام نہیں بلکہ مجازی کلام ہے۔حضرت ابراہیم نے اللہ سے یہ دعا کی کہ الہی ! احیاء موتی کا کام جو تو نے میرے سپرد کیا ہے اسے پورا کر کے دیکھنا اور مجھے بنا کہ میری قوم میں زندگی کی روح کس طرح پیدا ہوگی۔جب کہ میں بڑھا ہوں اور کام بہت اہم ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب ہم نے وعدہ کیا ہے تو یہ کام ہو کہ رہے گا۔حضرت ابراہیم نے عرض کیا کہ ہو کہ تو ضرور رہے گا مگر میں اپنے اطمینان کے لیے پوچھتا ہوں کہ یہ مخالف حالات کسی طرح بدلیں گے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو چار پرندے لے کر مدھا یعنی اپنی اولاد میں سے چار کی تربیت کر وہ تیری آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس احیاء کے کام کی تکمیل کریں گے۔و تغيير كبير سورة البقره مت ن!۔یہ چار روحانی پرندے کون ہیں ؟ ج :- یہ چار روحانی پرندے حضرت اسماعیل۔حضرت اسحقا حضرت یعقوب اور حضرت یوسف ہیں۔ان پرندوں کو پہاڑ پر رکھنے سے کیا مراد تھی ؟ ج :- ان روحانی پرندوں کو پہاڑ پر رکھنے سے مراد ان کی نہایت اعلی تربیت کرنا تھی اور دوسرے ان کے یہ فیع الدرجات ہونے کی طرف اشارہ ہے اور یہ کہ وہ بلندیوں کی چوٹیوں تک جا پہنچیں گے۔ان روحانی پرندوں میں سے دو کی یعنی حضرت اسماعیل اور حضرت اسحق کی حضرت ابراہیم نے براہ راست تربیت کی اور دو کی یعنی حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کی بالواسطہ تربیت کی۔س:۔ان چار روحانی پرندوں کو علیحدہ علیحدہ چار پہاڑوں پر رکھنے سے کیا مراد تھی؟ ج :- اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو یہ بتایا کہ یہ احیاء چار ملیحدہ علیحدہ وقتوں میں