رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 126
IPY دی اور ایک نیک نسل کی ابتداء کی خبر دے کہ صد مرکو کم کر دیا۔حضرت ابراہیم کو یہ بشارت بلا واسطہ کیوں نہ دی۔ج : اللہ تعالی کی یہ سنت ہے کہ المومن يرى دیدی له ، کبھی مومن کو براہ راست خبر دی جاتی ہے اور کبھی دوسروں کی معرفت، چونکہ ان فرستادوں کو کسی خاص غرض کے ماتحت حضرت لوط کے پاس جانے کا حکم ملا تھا اور یہ خبرا نہوں نے حضرت ابراہیم کو بھی پہنچاتی تھی۔اس لیے حضرت ابراہیم کے انج کو دور کرنے کے لیے یہ بشارت بھی انہی کی معرفت بھیجی گئی۔( تفسير سورة صور م۲۲ ) : حضرت ابراہیم نے ان فرستادوں کی مہمان نوازی کسی طرح کی ؟ ج :۔جب دہ فرستاد سے حضرت ابراہیم کے پاس خوشخبری لائے اور کہا کہ تمہارے لیے بھی ہمیشہ سلامتی ہو، پھر آپ نے کچھ بھی دیر نہ لگائی کہ ایک بھنے ہوئے بچھڑے کو لے آئے اور جب آپ نے دیکھا کہ وہ کھانا نہیں کھاتے تو آپ کے دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ شاید کوئی بات مہمان نوازی کے خلاف ہو گئی ہے۔سورہ حور میں اس واقعہ کا ذکر آیا ہے۔ولقد جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرَى قَالُوا سلما ط قَالَ سَلامُ فَمَا لَبِثَ أَن جَاءَ بِعِجُلِ حَنِيْدٍ فَلَمَّا رَا أَيْدِيَهُمُ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكَرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَادُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أَرْسِلُنَا إلى قَوْمِ لوط : - حضرت ابراہیم کی بیوی کو بشارت دیئے جانے کا باعث کیا بات بنی ہے ج :- حضرت ابراہیم کی بیوی پاس ہی کھڑی تھی وہ لوط قوم کے متعلق عذاب کی خیر سُن کر گھبرائیں۔ان کے دل میں ایک قوم کی تباہی پر دل میں درد پیدا ہوا۔اللہ