رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 123
۱۲۳ ج:۔حضرت ابراہیم نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ اپنے جگر گو نے حضرت اسماعیل کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر رہے ہیں۔حضرت اسماعیل نے رڈیاس کمر کیا جواب دیا تھا ؟ ج:- فرمانبردار بیٹے نے جانثاری کا ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ اسے میرے باپ ! جو کچھ تجھے خدا کہتا ہے وہی کرہ تو انشاء اللہ مجھے ایمان پر قائم رہنے والا دیکھے گا۔میں خوشی سے خدا کی راہ میں قربان ہونے کو تیار ہوں۔من :۔باپ اور بیٹے کی فرمانبرداری دیکھ کہ خدا تعالیٰ نے کیا فرمایا ؟ ج : جب باپ اور بیٹا دونوں ثابت قدمی اور بلند حوصلگی کے ساتھ فرمانبرداری پر آمادہ ہو گئے۔اور باپ نے بیٹے کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسے ماتھے کے بل گرالیا تو اللہ تعالی نے پکار کر کہا کہ اسے ابراہیم ا تو اپنی رویا پوری کر چکا۔ہم اسمی طرح محسنوں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔یہ یقینا ایک کھلی کھلی آزمائش تھی اور ہم نے اس کا فدیہ ایک بڑی قربانی کے ذریعہ سے دے دیا۔اور بعد میں آنے والی قوموں میں اس کا نیک ذکر باقی رکھا۔ابراہیم پر سلامتی نازل ہوتی رہے۔وہ یقینا ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔سورۃ الصافات میں اس واقعہ کا ذکر آتا ہے۔۔۔فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعَى قَالَ يُبنى إلى أرى في المَنَامِ الى اذُحِكَ فَانظُرُ مَا ذَا تَرَى قَالَ يابَتِ افْعَلُ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُ فِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصَّبِرِينَ فَلَمَّا أَسْلَمَا وَقَلَّهُ لِلْجَبينِ 8 وَنَادَيْنَة إِن تَابُوهِيمُل قَدْ صَدَّقْتَ ONLNALOGUE إِنَّا كَذَلِكَ نَجْوَى الْمُحْسِنِينَ ٥ ترجمہ :۔پھر جب وہ لڑکا اس کے ساتھ تیز چلنے کے قابل ہو گیا تو اس نے کہا۔اسے میرے بیٹے میں نے تجھے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کر