رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو

by Other Authors

Page 112 of 150

رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 112

۱۱۳ اس کی صفت کا اردنی اپر تو ہوتا ہے۔اس لیے محبت الہی کا یہ تقاضا ہے کہ میں اس کے لیے بھی دعا کروں جس کے وجود میں صفات الہیہ کا ظہور ہو۔س: ماران سے حضرت ابراہیم نے کہاں ہجرت کی ؟ ج :- حضرت ابراہیم نے خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق حاران سے کنعان (فلسطین) کی طرف ہجرت کی اور یہ زمین آئندہ ان کیسے اولاد کے لیے مقرر کردی گئی تھی۔حضرت ابراہیم کے ساتھ حضرت سارہ ، حضرت لوط اور ان کی بیوی نے بھی ہجرت کی تھی۔حضرت ابراہیم اور حضرت لوط کی اس ہجرت کا ذکر سورۃ انبیاء آیت نمبر ۷۲ میں آتا ہے۔ونجَيْنَهُ وَلُوطًا إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بُرَكْنَا فِيهَا لِلعَلَمِينَ ) ترجمہ: اور ہم نے اس کو اور لوط کو اس زمین کی طرف نجات دی جس میں ہم نے تمام جہانوں کے لیے برکتیں نازل کی تھیں " فلسطین کا علاقہ کن کی زیر اقتدار تھا۔ج : فلسطین کا علاقہ کنعانیوں کی زیر اقتدار تھا۔۔حضرت ابراہیم نے فلسطین سے کس طرف ہمیرات کی ؟ ج :- کہا جاتا کہ فلسطین میں جب قحط پڑ گیا تو لوگ غلہ کی تلاش میں مصر جانے لگے تب حضرت ابراہیم بھی اپنے کنبے کے لوگوں کے ساتھ مصر چلے گئے۔۔اس وقت مصر پر کس خاندان کی حکومت تھی ؟ ج :۔اس وقت مصر پر سامی خاندان کا بادشاہ حکمران تھا۔جس کا لقب فرعون تھا۔حضرت ابراہیم اور اس بادشاہ کا سلسلہ نسب ایک ہی تھا۔سفر ایشیاء میں رجو یہودیوں کی ایک معتبر تاریخ ہے مذکورہ ہے کہ حضرت ابراہیم کے زمانہ میں مصر کا بادشاہ حضرت کا ہم وطن تھا۔دارض القرآن جلد ۲ صدا )