رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو

by Other Authors

Page 111 of 150

رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 111

: کیا مشرک کے لیے دعا کرنا جائز ہے ؟ ج :- حضرت ابراہیم کا اپنے مشرک باپ کے لیے یہ دعا کرنا سا ستَغْفِرُ لگ مري انه كان بی حیا سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ مشرک کے لیے زندگی میں دعا کرنا جائز ہے۔بلکہ مرنے کے بعد بھی ایسے مشرک کے لیے دعا کرنا جائز ہے جس پر اتمام حجت کی سند نہ ملے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ حضرت آمنہ کو مشرک قرار دیا ہے۔لیکن آپ نے ان کے لیے بھی دعا کی۔استند احمد بن حنبل جلدہ ص ۳۵۵ :- حضرت ابراہیم کا بارگاہ الہی میں اپنے باپ کے لیے استغفار کر نے پر خدا تعالے نے آپ پر کیا ظاہر کیا ؟ ج :۔جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو بذریعہ وحی یہ بتا دیا کہ آر ایمان لانے والا نہیں ہے تو آپ نے آزر سے اپنی بات کا صاف صاف اعلان کر دیا اور اس س لا تعلقی کا اظہار کر دیا کیونکہ وہ خدا کا دشمن تھا۔سورۃ التوبہ میں اس واقعہ کا ذکر آتا ہے۔وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ ابْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَا أَنَّهُ عَدُو لِلَّهِ تَبَا مِنْهُ اِنَّ اِبْعِيْمَ لَدَواةُ حَلِيمٌ ) ترجمہ :۔اور ابراہیم کا استغفار اپنے باپ کے لیے صرف اس وجہ سے تھا کہ اس نے اس سے ایک وعدہ کیا تھا مگر جب اس پر ظاہر ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس وعدہ سے پوری طرح دست بردار ہو گیا۔ابراہیم بہت ہی نرم دل اور عقل مند تھا۔س:۔حضرت ابراہیم نے اپنے مشرک والد کے لیے دعا کیوں مانگی ہے ج : - حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ میرا خدا معنی ہے انتہائی خیر خواہ ہے اور والدین میں