انبیاء کا موعود — Page 32
PA 1 : " میرا محبوب سرخ و سفید ہے۔دس ہزار آدمیوں کے درمیان وہ جھنڈے کی مانند کھڑا ہوتا ہے۔اس کا سر ایسا ہے جیسے چھوکا سونا۔اس کی زلفیں پیچ در پیچ اور کوے کی سی کالی ہیں۔اس کی آنکھیں ان کبوتروں کی مانند ہیں جو لب دریا دودھ میں نہا کر تمکنت سے بیٹھتی ہیں۔اس کے رخسارے پھولوں اور بلسان کی ابھری ہوئی کیاریوں کی مانند ہیں۔اس کے لب سوسن ہیں جن سے بہتا ہوا مر سکتا ہے۔اس کے ہاتھ ایسے ہیں جیسے سونے کی کڑیاں جس میں توسیس کے جواہر سکے ہوں۔اس کا پیٹ ہاتھی دانت کا سا کام ہے جس میں نیلم کے گل بنے ہوں۔اس کے پیر ایسے ہیں جیسے سنگ مرمر کے ستون جو سونے کے پایوں پر کھڑے کئے جائیں۔اس کی قامت لوبان کی سی ہے وہ خوبی میں رشک سرد ہے۔اس کا منہ شیریں ہے۔وہ سراپا عشق انگر (محمدیم، اسے یروشلم کی بیٹیو! یہ میرا پیارا ہے میرا جانی (غزل الغزلات باب ۵ آیت ۱۰ تا ۱۶) آپ کو اس تحریر کے پڑھنے سے محسوس ہوتا ہے گویا کوئی عاشق اپنے محبوب کی ایک ایک چیز کو بڑے غور سے دیکھتا ہے پھر روئے زمین پر پائی جانے والی ساری قیمتی چیزوں سے ان کو تشبیہ دیتا ہے یعنی ان جیسا بناتا ہے، گو یاد نیا کی تمام خوبصورت اور قیمتی چیزیں اس کے محبوب کے وجود کا حصہ ہیں۔اس بیان سے ایسا لگتا ہے کہ حضرت سلیمان نے پیارے آقا کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوگا۔پہلے ان خوبصورت اور قیمتی چیزوں کو لیتے ہیں۔(۱) سرخ اور سفید رنگ خوبصورتی کی علامت ہے (۲) جھنڈا قوم کی عظمت اس کی شان کا نشان ہوتا ہے (۳) چھو کا سونا بالکل خالص سونا جس میں ذرہ برابر بھی ملاوٹ نہ ہو رہی پیچ در پیچ زلفیں یعنی بال یا تو سید مصے ہوتے ہیں جو ایک طرح کی خوبصورتی ہے دوسرے گھنگریالے بال چین میں زیادہ