انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں

by Other Authors

Page 9 of 30

انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں — Page 9

18 17 تک وہ بالکل بے اثر اور بیہودہ کام ہے۔( ملفوظات جلد 5 ص 455) نماز میں دعائیں اپنی زبان میں مانگو جو طبعی جوش کسی کی مادری زبان میں ہوتا ہے وہ ہرگز غیر زبان میں پیدا نہیں ہوسکتا۔( ملفوظات جلد 4 ص 29) اصل دعائیں اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے واسطے کرنی چاہئیں باقی دعا ئیں خود بخود قبول ہو جائیں گی کیونکہ گناہ کے دُور ہونے سے برکات آتی ہیں یوں دُعا قبول نہیں ہوتی جو نری دنیا کے واسطے ہو“ ( ملفوظات جلد 3 ص 602) حی - دعا ایک موت ہے اور جیسے موت کے وقت اضطراب اور بے قراری ہوتی ہے اسی طرح پر دعا کے لئے بھی ویسا ہی اضطراب اور جوش ہونا ضروری ہے۔اس لئے دعا کے واسطے پورا پورا اضطراب اور گدازش جب تک نہ ہو بات نہیں بنتی پس چاہیے کہ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر نہایت تضرع اور زاری اور ابتہال کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور اپنی مشکلات کو پیش کرے اور اس دعا کو اس حد تک پہنچا دے کہ ایک موت کی سی صورت واقع ہو جاوے۔اس وقت دعا قبولیت کے درجے تک پہنچتی ہے۔( ملفوظات جلد 3 ص 616 حاجتیں پوری کریں گے کیا تری عاجز بشر بیاں سب حاجتیں حاجت روا کے سامنے چاہیے تجھ کو مٹانا قلب نقش دوئی سر جھکا بس مالک ارض ނ سما کے سامنے قبولیت دعا کے اوقات قبولیت دعا کے لئے کچھ اوقات مناسب اور بہترین ہیں۔1 - رات کو آخری اوقات مناسب اور بہترین ہیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ہمارا رب ہر رات قریبی آسمان تک نزول فرماتا ہے جب رات کا تیسرا حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کون ہے جو مجھے پکارے تو میں اس کو جواب دوں کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں اس کو دوں کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں اس کو بخش دوں۔“ ( ترمذی کتاب الدعوات) 2 - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اذان اور اقامت کے درمیان کی (حدیث صحیح بخاری جلد دوم) دعا رد نہیں ہوتی۔3 - سورج طلوع ہونے اور سورج غروب ہونے تک سے پہلے کا وقت۔4-عصر سے مغرب تک کا وقت۔5- روزہ کھولنے کے وقت۔6-سفر کے دوران۔7- چاند دیکھنے کے وقت۔8- اذان اور اقامت کے درمیان 9- جمعہ کے دن عصر اور مغرب کے درمیان