انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں — Page 8
16 15 اُسے چاہیے کہ عیش کے زمانے میں کثرت سے دعا کرے۔“ ( ترمذی ابواب الدعوات ، دعوة المسلم مستجابة) -الصلواة مخّ العبادة دعا عبادت کا مغز ہے۔- لا يرد لقضاء الا دعا دعا کے سوا تقدیر تبدیل نہیں ہوتی۔۔جب ایک مسلمان خدا سے کوئی دعا کرتا ہے تو خدا اُسے تین صورتوں میں سے کسی نہ کسی ایک صورت میں ضرور قبول فرما لیتا ہے۔1 - یا تو وہ اُسے اُسی صورت میں اُسی دنیا میں قبول کر لیتا ہے۔2- یا اُسے آخرت کے لئے دعا کرنے والے کے واسطے ذخیرہ کر لیتا ہے۔3 یا اگر دُعا کا قبول کرنا کسی سُنت الہی یا مشیت الہی کے خلاف ہو تو اس کی وجہ سے دعا کرنے والے سے کسی ملتی جلتی تکلیف یا بدی کو دور فرما دیتا ہے۔“ - اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم پر دعا کرنا اور مانگنا لازم ہے قبولیت دعا اور بخشش میں نے اپنے ذمے لگائی ہے۔(الطبرانی) اللہ تعالیٰ سے پر یقین دل کے ساتھ دعا مانگو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ غافل و لا پروا دل سے کی گئی دعا قبول نہیں کرتا۔(الترندی)۔مظلوم کی دعا مقبول ہوتی ہے۔(الطیاسی) جب تم میں سے کوئی دعا کرنے لگے تو اُس کو چاہیے کہ اپنے سوال پر پختگی سے قائم ہو اور ایسے الفاظ استعمال نہ کرے کہ خدایا اگر تو پسند کرے تو میری اس دُعا کو قبول کر خدا تو اُسی حال میں اُسی صورت میں قبول کرے گا اگر وہ اُسے پسند کرے گا کیونکہ خدا سب کا حاکم ہے اور اس پر کسی کا دباؤ نہیں۔پس ڈھیلے ڈھالے الفاظ کہہ کر اپنی دعا کے زور اور اپنے دل کی توجہ کو کمزور نہیں کرنا چاہیے۔ہ - حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔جب اپنی دعا کے قبول ہونے کا پتہ چلے تو یہ دعا پڑھو۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى بِعِزَّتِهِ وَ جَلَالِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ مستدرک حاکم مطبوعہ بیروت جلد 1 ص 730) ترجمہ: تمام تعریفیں اُس ذات کے لئے ہیں جس کی عزت و جلال کے ساتھ تمام نیک کام پایہ تکمیل تک پہنچتے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دعا متعلق ارشادات۔سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ جس سے دعا کرتا ہے اس پر کامل ایمان ہو اس کو موجود سمیع بصیر علیم متصرف قادر سمجھے اور اس کی ہستی پر ایمان رکھے کہ وہ دعاؤں کو سنتا ہے اور قبول کرتا ہے۔(ملفوظات جلد 3 ص 522) ہے۔سانپ کے زہر کی طرح انسان میں زہر ہے۔اس کا تریاق دعا ہے جس کے ذریعہ سے آسمان سے چشمہ جاری ہوتا ہے۔جو دعا سے غافل ہے وہ مارا گیا۔ایک دن اور رات جس کی دعا سے خالی ہے وہ شیطان سے قریب ہوا۔ہر روز دیکھنا چاہیے کہ جو حق دعاؤں کا تھا وہ ادا کیا ہے یا نہیں۔( ملفوظات جلد 3 ص 591) ہیں۔دعا میں بھی جب تک کچی تڑپ اور حالت اضطراب پیدا نہ ہو تب