اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 62 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 62

تَفْعَلُونَ پھر اس بات پر ، فرمایا کہ اگر تم اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہو تو پہلے خود تقویٰ اور طہارت اختیار کرو۔فرماتے ہیں کہ صَابِرُوا وَرَابِطُوا۔قرآنِ کریم میں آل عمران کی آیت ہے۔جس طرح دشمن کے مقابلہ پر سرحد پر گھوڑا ہونا ضروری ہے تا کہ دشمن حد سے نہ نکلنے پاوے۔اسی طرح تم بھی تیار رہو۔ایسا نہ ہو کہ دشمن سرحد سے نکل کر اسلام کو صدمہ پہنچائے۔میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ اگر تم اسلام کی حمایت اور خدمت کرنا چاہتے ہو، تو پہلے خود تقویٰ اور طہارت اختیار کرو جس سے خود تم خدا تعالیٰ کی پناہ کے حصن حصین میں آسکو۔اور پھر تم کو اس خدمت کا شرف اور استحقاق حاصل ہو۔تم دیکھتے ہو کہ مسلمانوں کی بیرونی طاقت کیسی کمزور ہوگئی ہے۔قومیں ان کو نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتیں ہیں۔( اور آج جب ہم دیکھتے ہیں تو یہ تو پہلے سے بھی بڑھ کر حالت ہوئی ہوئی ہے) فرمایا کہ اگر تمہاری اندرونی اور قلبی طاقت بھی کمزور اور پست ہوگئی ، تو بس پھر تو خاتمہ ہی سمجھو۔تم اپنے نفسوں کو ایسے پاک کرو کہ قدسی قوت ان میں سرایت کرے اور وہ سرحد کے گھوڑوں کی طرح مضبوط اور محافظ ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہمیشہ متقیوں اور راستبازوں ہی کے شامل حال ہوا کرتا ہے۔اپنے اخلاق اور اطوار ایسے نہ بناؤ جن سے اسلام کو داغ لگ جاوے۔بدکاروں اور اسلام کی تعلیم پر عمل نہ کرنے والے مسلمان سے اسلام کو داغ لگتا ہے۔کوئی مسلمان شراب پی لیتا ہے تو کہیں قے کرتا پھرتا ہے۔پگڑی گلے میں ہوتی ہے۔موریوں اور گندی نالیوں میں گرتا پھرتا ہے۔پولیس کے جوتے پڑتے ہیں۔ہندو اور عیسائی اس پر بنتے ہیں۔اس کا ایسا خلاف شرع فعل اس کی ہی تضحیک کا موجب نہیں ہوتا بلکہ در پردہ اس کا اثر نفس اسلام تک پہنچتا ہے۔مجھے ایسی خبریں یا جیل خانوں کی رپورٹیں پڑھ کر سخت رنج ہوتا ہے۔جب میں دیکھتا ہوں کہ اس قدر مسلمان بدعملیوں کی وجہ سے مور د عتاب ہوئے۔دل بے قرار ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ جو صراط مستقیم رکھتے ہیں۔اپنی بداعتدالیوں سے صرف اپنے آپ کو نقصان نہیں پہنچاتے ، بلکہ اسلام پر جنسی کراتے ہیں۔میری غرض اس سے یہ ہے کہ مسلمان لوگ مسلمان کہلا کر ان ممنوعات اور منہیات میں مبتلا ہوتے ہیں جو نہ صرف ان کو بلکہ اسلام کو مشکوک کر دیتے ہیں۔پس اپنے چال چلن اور اطوار ایسے بنا ۶۲