اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 33 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 33

بیوی نیک ہے اور خاوند رزق حلال نہیں کما تا تو تب بھی گھر متاثر ہوگا۔نمازوں کی طرف اگر باپ کی توجہ ہے لیکن اپنے بچوں کو تو جہ نہیں دلاتا یا باپ کہتا ہے لیکن ماں توجہ نہیں کر رہی۔یا ماں توجہ دلا رہی ہے اور باپ بے نمازی ہے تو بچے اُس کی نقل کریں گے۔گزشتہ خطبہ میں بھی میں نے یہ مثالیں دی تھیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا ہے: قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا (اتحریم : 66) کہ نہ صرف اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ بلکہ اپنے اہل وعیال کو بھی جہنم کی آگ سے بچاؤ۔تمہارا صرف اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے بچانا کافی نہیں ہے بلکہ دوسروں کو بھی بچانا فرض ہے۔اگر دوسروں کو نہیں بچاؤ گے تو وہ تمہیں ایک دن لے ڈوبیں گے۔ان آٹھ باتوں کے علاوہ بھی بعض وجوہات عملی اصلاح میں روک کی ہوسکتی ہیں۔یہ چند اہم باتیں جیسا کہ میں نے کہی ہیں لیکن اگر ان پر غور کیا جائے تو تقریبا تمام باتیں انہی آٹھ باتوں میں سمٹ بھی جاتی ہیں۔حمد خلاصہ خطبہ جمعہ 10 جنوری 2014 عملی اصلاح کے لئے تین باتوں کی ضرورت (1) قوت ارادی (2) قوت علمی (3) قوت عملی حضور نے فرمایا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑے عمدہ رنگ میں وضاحت فرمائی ہے کہ اگر عملی اصلاح کے لئے یہ باتیں انسان میں پیدا ہو جا ئیں تو تبھی کامیابی مل سکتی ہے اور یہ تین چیزیں ہیں۔نمبر ایک قوت ارادی نمبر دو صحیح اور پورا علم اور نمبر تین قوت عملی، لیکن اصل بنیادی قوتیں دو ہیں، قوت ارادی اور قوت عملی جو درمیان میں ان دونوں کے چیز رکھی گئی ہے، یعنی صحیح اور پور اعلم ہونا، یہ دونوں بنیادی قوتوں پر اثر ڈالتی ہیں۔علم کا صحیح ہونا قوت عملی پر بھی اثر ڈالتی ہے اور قوتِ ۳۳