اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 32
ہو جاتے ہیں اور خشیت اللہ میں کمی آجاتی ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 383 خطبہ جمعہ 12 جون 1936ء) بسا اوقات لالچ، دوستانہ تعلقات، رشتے داری ، لڑائی ، بغض اور کینے ان اعمال کے اچھے حصوں کو ظاہر نہیں ہونے دیتے۔مثلاً امانت کی جو میں نے مثال دی ہے، دوبارہ دیتا ہوں کہ انسان امانت کو اس نقطہ نظر سے نہیں دیکھتا کہ خدا تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہوا ہے، بلکہ اس نقطۂ نگاہ سے دیکھتا ہے کہ اس خاص موقع پر امانت کی وجہ سے اُس کے دوستوں یادشمنوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔اسی طرح وہ سچ کو اس نقطہ سے نہیں دیکھتا کہ سچ بولنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے بلکہ اس نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہے کہ آیا اُسے یا اُس کے دوستوں، عزیزوں کو اس سچ بولنے سے کوئی نقصان تو نہیں پہنچے گا ؟ ایک انسان دوسرے انسان کے خلاف گواہی اس لئے دے دیتا ہے کہ فلاں وقت میں اُس نے مجھے نقصان پہنچایا تھا۔پس آج مجھے موقع ملا ہے کہ میں بھی بدلہ لے لوں اور اُس کے خلاف گواہی دے دوں۔تو اعمال میں کمزوری اس وجہ سے ہوتی ہے کہ خشیت اللہ کا خانہ خالی ہو جاتا ہے۔آٹھواں سبب آٹھواں سبب عملی اصلاح میں روک کا یہ ہے کہ عمل کی اصلاح اُس وقت تک بہت مشکل ہے جب تک خاندان کی اصلاح نہ ہو۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 384 خطبہ جمعہ 12 جون 1936ء) مثلاً دیانتداری اُس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی یا اُس کا معیار قائم نہیں رہ سکتا، جب تک بیوی بچے بھی پورا تعاون نہیں کرتے۔گھر کا سر براہ کتنا ہی حلال مال کمانے والا ہو لیکن اگر اُس کی بیوی کسی ذریعہ سے بھی ہمسایوں کو لوٹتی ہے یا کسی اور ذریعہ سے کسی کو نقصان پہنچاتی ہے، مال غصب کرنے کی کوشش کرتی ہے یا اُس کا بیٹا رشوت کا مال گھر میں لاتا ہے تو اس گھر کی روزی حلال نہیں بن سکتی۔خاص طور پر ان گھروں میں جہاں سب گھر والے اکٹھے رہتے ہیں، جوائنٹ فیملی سسٹم ہے اور اُن کے اکٹھے گھر چل رہے ہوتے ہیں۔اسی طرح دوسرے اعمال ہیں۔جب تک سب گھر والوں کے اعمال میں ایک ہو کر بہتری کی کوشش نہیں ہوگی، کسی نہ کسی وقت ایک دوسرے کو متاثر کر دیں گے۔