امن کے شہزادہ کا آخری پیغام — Page 52
امن کے شہزادہ کا آخری پیغام : مگر واقعی بات یہ ہے کہ اس تعلیم میں جو حضرت عیسی نے پیش کی صرف یہی نقص نہیں کہ وہ دنیا کی عام ہمدردی پر مبنی نہیں بلکہ ایک یہ بھی نقص ہے کہ جیسا کہ توریت تشدّ دو انتقام کی تعلیم میں افراط کی طرف مائل ہے ایسا انجیل عفو اور در گذر کی تعلیم میں تفریط کی طرف جھک گئی ہے اور ان دونوں کتابوں نے انسانی درخت کی تمام شاخوں کا کچھ لحاظ نہیں کیا بلکہ اس درخت کی ایک شاخ کو تو توریت پیش کرتی ہے اور دوسری شاخ انجیل کے ہاتھ میں ہے اور دونوں تعلیمیں اعتدال سے گری ہوئی ہیں کیونکہ جیسا کہ ہر وقت اور ہر موقعہ پر انتقام لینا اور سزا دینا قرین مصلحت نہیں۔ایسا ہی ہر وقت اور ہر موقعہ پر عفو اور درگذر کرنا انسانی تربیت کے مصالح سے بالکل مخالف ہے۔اسی وجہ سے قرآن شریف نے ان دونوں تعلیموں کو ر ڈ کر کے یہ فرمایا ہے جَزَ وُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ (الشوری: ۴۱) یعنی بدی کا بدلہ اسی قدر بدی ہے جو کی جائے۔جیسا کہ توریت کی تعلیم ہے مگر جو شخص عفو کرے جیسا کہ انجیل کی تعلیم ہے تو اس صورت میں وہ عفو مستحسن اور جائز ہوگی جبکہ کوئی نیک نیتجہ اس کا مرتب ہو اور جس کو معاف کیا گیا کوئی اصلاح اس کی اس عفو سے متصور ہو ورنہ قانون یہی ہے جو توریت میں مذکور ہے۔52