امن کا پیغام اور ایک حرفِ انتباہ

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 13 of 23

امن کا پیغام اور ایک حرفِ انتباہ — Page 13

امن کا پیغام اور ایک حرف انتباہ ۱۳ اور قومی عظمت کے نشہ میں مست ہیں کہ آیا وہ اس مستی کو چھوڑ کر روحانی لذت اور سرور کے خواہاں ہیں یا نہیں؟ اگر دنیا نے دنیا کی مستیاں اور خرمستیاں نہ چھوڑیں تو پھر یہ انذاری پیشگوئیاں ضرور پوری ہوں گی اور دنیا کی کوئی طاقت اور کوئی مصنوعی خدا دنیا کو موعودہ ہولناک تباہیوں سے بچا نہ سکے گا۔پس اپنے پر اور اپنی نسلوں پر رحم کریں اور خدائے رحیم و کریم کی آواز کو نہیں۔اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے اور صداقت کو قبول کرنے اور اس سے فائدہ اُٹھانے کی توفیق عطا کرے۔اب میں مختصراً اس روحانی انقلاب کا ذکر کرتا ہوں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم روحانی فرزند کے ذریعہ دنیا میں رونما ہونا تھا۔مگر یہ نہ بھولنا چاہئے کہ آپ کی بعثت کے زمانہ میں اسلام انتہائی کس مپرسی اور تنزل کی حالت میں تھا۔علم مسلمان کے پاس نہ تھا۔دولت سے وہ محروم تھے ، صنعت و حرفت میں انکا کوئی مقام نہ تھا، تجارت ان کے ہاتھ سے نکل چکی تھی ، سیاسی اقتدار وہ کھو چکے تھے اور حقیقی معنی میں تو دنیا کے کسی حصہ میں وہ صاحب اختیار حاکم نہ رہے تھے۔اخلاقی حالت بھی ابتر تھی اور شکست خوردہ ذہنیت ان میں پیدا ہو چکی تھی اور پھر ابھرنے اور زندہ قوموں کی صف میں کھڑے ہونے کی کوئی امنگ باقی نہ رہی تھی۔اسلام کی مخالفت کا یہ حال تھا کہ دنیا کی سب طاقتیں اسلام پر حملہ آور ہورہی تھیں اور اسلام کو سر چھپانے کیلئے کہیں جگہ نہ مل رہی تھی۔عیسائیت سب میں پیش پیش تھی اور اسلام کی سب سے بڑی دشمن۔عیسائی مناد کثرت سے دنیا میں پھیل گئے تھے ، عیسائی دنیا کی دولت اور سیاسی اقتدار ان مناد کی مدد کو ہر وقت تیار تھا اور