امن کا پیغام اور ایک حرفِ انتباہ — Page 12
امن کا پیغام اور ایک حرف انتباہ یہ سب واقعات اسی طرح ظہور میں آئے جس طرح کہ ان کی پہلے سے خبر دی گئی تھی۔یا درکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے مقصد کو پورا کر کے ۲۶ مئی ۱۹۰۸ کو اپنے خدا کے حضور حاضر ہو گئے۔ان تمام پیشگوئیوں کی اس سے قبل ہی وسیع پیمانے پر اشاعت ہو چکی تھی۔اس لئے یہ بات یقینی ہے کہ اسلام کے عالمگیر غلبہ کے متعلق جو پیش خبریاں دی گئیں اور نبوت کی گئی ہے وہ ضرور اپنے وقت پر پوری ہوں گی کیونکہ یہ پیش خبریاں ایک ہی سلسلہ کی مختلف کڑیاں ہیں۔یہ بھی یادر ہے کہ اسلام کے غلبہ اور اسلامی صبح صادق کے طلوع کے آثار ظاہر ہورہے ہیں گو ابھی دھندلے ہیں لیکن اب بھی ان کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔اسلام کا سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوگا اور دنیا کو منور کرے گا، لیکن پہلے اس سے کہ یہ واقع ہوضروری ہے کہ دُنیا ایک اور عالمگیر تباہی میں سے گزرے ایک ایسی خونی تباہی جو بنی نوع انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیگی ، لیکن یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ ایک انداری پیشگوئی ہے اور انذاری پیشگوئیاں تو بہ اور استغفار سے التواء میں ڈالی جاسکتی ہیں بلکہ ٹل بھی سکتی ہیں اگر انسان اپنے رب کی طرف رجوع کرے اور تو بہ کرے اور اپنے اطوار دُرست کر لے، وہ اب بھی خدائی غضب سے بچ سکتا ہے اگر وہ دولت اور طاقت اور عظمت کے جھوٹے خداؤں کی پرستش چھوڑ دے اور اپنے رب سے حقیقی تعلق قائم کرے، فسق و فجور سے باز آ جائے حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے لگے اور بنی نوع انسان کی سچی خیر خواہی اختیار کرلے مگر اسکا انحصار تو اُن قوموں پر ہے جو اس وقت طاقت اور دولت