امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ — Page 2
خود خُدا تیاری کر رہا تھا۔اس علاقہ کو آباد کر رہا تھا ،سجارہا تھا اور انسانوں کو جمع کر کے لا رہا تھا کہ وہ دُنیا کے سارے انسانوں سے بڑھ کر اُس کے محبوب سے محبت کریں۔اس کی خاطر قربانیاں دیں اور خُدا کے بعد سب سے زیادہ اُسی سے پیار کریں اور ظاہر ہے کہ یہ انوکھے انسان اسی لیے جمع کئے گئے کہ انہوں نے خُدا کے پیارے کا استقبال کرنا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے ہزاروں سال پہلے خُدا تعالیٰ کے ایک پیارے نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے تھے آپ کی تین بیویاں تھیں۔ایک حضرت سارہ جو ان کی رشتہ دار تھیں اور دوسری بیوی حضرت ہاجرہ پہلے تھیں جو مصر کے بادشاہ کی بیٹی تھیں، تیسری بیوی کا نام قطور ا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام ۸۰ سال سے زیادہ عمر کے ہو گئے تھے لیکن ابھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو کوئی اولاد نہ دی تھی۔آپ اللہ تعالیٰ سے نیک اولاد کی دُعائیں کرتے رہے۔آپ کو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ تھا اس لئے مایوس نہ تھے۔آخر اللہ تعالیٰ نے آپ کی دُعاؤں کو ٹنا اور ایک فرشتے نے حضرت ہاجرہ کو بشارت دی کہ خدا تعالیٰ آپ کو ایک بیٹا عطا کرے گا اور اس بچے کا نام اسمعیل رکھنا۔کے اسمعیل کے معنی ہیں ”خدا نے سُن لی۔“ ساتھ یہ خوشخبری بھی دی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”میں تیری اولاد کو بڑھاؤں گا کہ وہ گنی نہ جا سکے گی۔بچو ! حضرت اسمعیل کی اولاد سے ہمارے نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔آپ کے بزرگوں کی کیا شان تھی کہ باپ خدا کا نبی ، ماں مصر کی شہزادی اور بیٹا لے بعض پرانے عالموں نے تحقیق کے ذریعہ جس میں ایک یہودی عالم جس کا نام ( ہشام) ہے اس نے توریت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ہاجرہ شاہ مصرکی لڑکی تھیں۔(ارض القرآن جلد ۲ صفحہ ۴۱) ۳،۲ دیباچہ تفسیر القرآن صفحه ۶۵ و پیدائش باب ۱۶ آیت ۱۱،۱۰