امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ

by Other Authors

Page 1 of 24

امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ — Page 1

پیارے بچو ! یہ تو آپ جانتے ہیں کہ یہ دُنیا اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بنائی۔اور انسان کو آہستہ آہستہ ترقی دے کر اس قابل بنایا کہ وہ آپ کا استقبال کر سکے اور آپ کی باتیں سمجھ سکے۔اب اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے کو پیدا کرنے کے لئے جس جگہ اور جس شہر کو چنا وہ بھی برکت والا اور امن والا ہے۔(سورۃ التین ) اور یقینا وہ شہر مکہ ہے جس کو پہلے بکۃ کہتے تھے۔(آل عمران : ۹۷) یہ ایک وادی ہے۔وادی پہاڑوں کے درمیان کے میدانی علاقہ کو کہتے ہیں۔مکہ میں دو پہاڑیاں صفا اور مروہ ہیں۔آب میں آپ کو اُسی عجیب و غریب شہر کی کہانی سناتی ہوں۔آپ خیال کریں گے یہ شہر عجیب و غریب کیسے ہو گیا۔وہ اس طرح کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس علاقہ کو پسند کیا اس وقت یہ بالکل ویران صحرا تھا۔اس میں پانی تھا نہ گھاس، نہ درخت تھے نہ آبادی تھی۔صرف اس وادی میں ہی نہی بلکہ دُور دُور کسی انسان کا نشان تک نہ تھا۔اب بچو ! دیکھنا کہ خُدا تعالیٰ کس طرح اس بے آباد علاقے کو ترقی دیتا ہے کیونکہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب کوئی بڑا آدمی کسی علاقہ میں جاتا ہے تو اس شہر کو صاف کیا جاتا ہے ،سجایا جاتا ہے اور وہاں انسان جمع ہو کر اس کا استقبال کرتے ہیں۔اسی طرح جتنے بڑے رتبے کا آدمی ہوتا ہے تیاریاں بھی اُسی کے مطابق ہوتی ہیں۔بڑے بڑے بادشاہ اگر تھوڑی سی دیر کے لئے کسی جگہ پر ٹھہریں تو اس کو بھی کئی کئی دن پہلے سجایا جاتا ہے۔پھر بھلا اس دُنیا کا سب سے عظیم انسان ، خُدا کا سب سے پیارا اس کا محبوب بادشاہوں کا بادشاہ نہ صرف دنیا وی بلکہ روحانی بادشاہ نے جس جگہ پر آنا ہو اس کے مطابق تیاری بھی تو کرنی تھی۔اور ذرا سوچو تو کیا شان تھی اس انسان کی جس کی آمد کے لئے