امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ

by Other Authors

Page 6 of 24

امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ — Page 6

جاتا۔" خد اہاجرہ " پر رحم کرے اگر وہ اس پانی کو نہ روکتیں تو یہ ایک بہنے والا چشمہ بن نیز فرمایا کہ " حج میں صفا و مروہ کے درمیان دوڑ نا حضرت ہاجرہ کی مقدس یادگار ہے۔“ (سیرۃ ابن ہشام) پیارے بچو! دیکھا آپ نے ، کس طرح خُد اتعالیٰ نے اپنے پیاروں کے لئے انتظام کیا۔صحرا میں پانی مل گیا۔کوئی بھی انسان جب اپنے آپ کو خُدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرتا ہے تو خُدا تعالیٰ اس کی ہر حرکت اور ہر حالت کو پسند فرماتا ہے اور دوسرے نیک بندوں کے لئے یادگار بنا دیتا ہے۔رہتی دنیا تک اس کے نیک بندے ان پر رحمتیں نازل ہونے کی دُعائیں کرتے رہتے ہیں۔ہاں تو بچو ! اب پانی کا انتظام تو ہو گیا مگر کھانے کا کیا ہوا۔یہ کام بھی خُدا نے اپنے ذمہ لیا تھا۔پھر اس کا کرنا کیا ہوا کہ یمن کا ایک قبیلہ جرہم جو شام کی طرف جارہا تھا ، راستہ بھول گیا۔یہ راستہ بھولنے کا واقعہ مکہ کے قریب ہوا۔قبیلہ وہیں ٹھہر گیا۔ایک دن انہوں نے پانی کا پرندہ فضا میں اُڑتے دیکھا تو حیران رہ گئے کہ صحرا میں پانی کے پرندوں کا کیا کام؟ اُن کے سردار نے کہا کہ اس علاقے سے تو ہم کئی بار گزرے ہیں۔یہاں پانی تو نہیں ہے پھر آج پانی کا پرندہ کیسا؟ سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ دیکھا جائے کہ ماجرا کیا ہے۔چنانچہ چند آدمی روانہ کئے گئے۔وہ کیا دیکھتے ہیں کہ صاف وشفاف پانی کا چشمہ جاری ہے اور ایک تنہا عورت معصوم بچے کے ساتھ اس کے پاس بیٹھی ہے۔فوراً وہ لوگ اپنے سردار کے پاس آئے اور سارا واقعہ سنایا۔قبیلہ کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔کیونکہ وہ بھی پانی کے لئے پریشان تھے۔پورے قبیلے نے اس جانب کوچ کیا۔