امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ

by Other Authors

Page 5 of 24

امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ — Page 5

تلاش میں ادھر ادھر بھا گیں۔بھاگتے ہوئے کبھی صفا کی پہاڑی پر چڑھ جاتیں کبھی انترکر بچے کو آکر دیکھتیں اور پھر بے قرار ہو کر مروہ کی پہاڑی پر چڑھ جاتیں اور دُور دُور تک نظر دوڑائیں کہ کہیں پانی نظر آ جائے یا کوئی قافلہ نظر آ جائے جس سے پانی لے کر اپنے معصوم بچے کی پیاس بجھا سکیں۔لیکن کوئی ہوتا تو نظر آتا۔اس بے چینی اور بے قراری میں انہوں نے دونوں پہاڑیوں کے سات چکر لگائے ساتھ ہی اپنے مولا سے روروکر دُعائیں کرتیں کہ: "خُدایا ہمیں کسی آزمائش میں نہ ڈالنا، ہمیں تیری رضا کی خاطر یہاں چھوڑا گیا ہے۔تو ہی ہمارا مددکرنے والا اور پریشانیوں کو دور کرنے والا ہے۔“ آخر خُدا کا کرنا کیا ہوا کہ ساتویں چکر میں ان کو ایک آواز آئی۔اے ہاجرہ خُدا نے تیری اور تیرے بچے کی سُن لی۔“ اس آواز کوشن کر وہ فوراً پلٹیں اور بچے کی طرف دوڑیں تو کیا دیکھتی ہیں کہ جہاں حضرت اسمعیل علیہ السلام روتے ہوئے پاؤں رگڑ رہے تھے وہاں کی زمین گیلی ہے انہوں نے جلدی جلدی ہاتھوں سے مٹی ہٹائی تو پانی پھوٹ پھوٹ کر نکل پڑا۔جلدی سے بچے کو پلا یا خود بھی پیا اور خُدا کی حمد اور اس کا شکر بجالائیں اور اس انعام پر حیران رہ گئیں۔بار بار اُس جگہ جہاں پانی تھا نظر جاتی جہاں کچھ دیر پہلے کچھ نہ تھا۔اب پانی ذرا تیزی سے نکلنے لگا تو بے ساختہ اُن کے منہ سے نکلا زمزم یعنی ٹھہر ٹھہر اور انہی الفاظ پر اس مقدس چشمہ کا نام ” زمزم “ پڑ گیا۔حضرت ہاجرہ نے سوچا کہ اگر پانی کوروکا نہ گیا تو یہ بہ کرکہیں ضائع نہ ہو جائے۔چنانچہ انہوں نے اس کے گرد پتھر رکھ دیئے۔فرمایا: حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے